سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 398
سيرة النبي علي 398 جلد 1 اس قدر تاکید کی اور اتنی دفعہ کی کہ مجھے خیال ہو گیا کہ شاید ہمسایہ کو وارث قرار دے دیا جائے گا 4۔اسی طرح ہم سفروں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ جو شخص اونٹنی پر سوار ہو اور دوسرے آدمی کی جگہ خالی ہو تو چاہئے کہ کسی ہم سفر کو اپنے ساتھ سوار کر لے اور جو شخص کہ سفر پر ہو اور اس کے پاس کچھ زیادہ کھانا ہو وہ اپنے ہم سفر کو شریک کرے۔ہم سفر کے علاوہ ایک مجلس میں بیٹھنے والوں کے متعلق بھی اسلام نے نیک سلوک کا حکم دیا ہے۔چنانچہ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ 5 یعنی اے مومنو! جب تم کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہو اور کوئی اور آدمی آکر کہے کہ ذرا کھل جاؤ اور ہمیں بھی جگہ دو تو چاہئے کہ تم سمٹ کر جگہ دے کرو۔خدا تعالیٰ تم کو اپنے قرب میں جگہ دے گا۔اسی طرح ہم مجلس کی فیلنگز (Feelings) کا خیال رکھنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ دیا ج صلى الله جب ایک جگہ پر تین آدمی بیٹھے ہوں تو دومل کرسر گوشیاں نہ کیا کریں کیونکہ اس سے تیسرے کو تکلیف ہوتی ہے؟۔بڑوں کے ساتھ چھوٹوں کا معاملہ اور علاوہ ان تفصیلی احکام کے ان تمام تعلقات کے متعلق جو اوپر چھوٹوں کے ساتھ بڑوں کا معاملہ بیان ہوئے ہیں ایک عام حکم بھی اسلام نے دیا ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَرْحَمُ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُؤَقِّرُ كَبِيرَ نَاحِ یعنی جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔اسی مختصر مگر جامع فقرہ میں تمام ان تعلقات کی تشریح کر دی جو چھوٹوں اور بڑوں کے متعلق ہیں۔مہمان کے ساتھ نیک سلوک جہاں اور متعلقین کے ساتھ اسلام نے نیک سلوک کا حکم دیا ہے وہاں مہمان کو بھی فراموش نہیں کیا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ كَانَ يُؤْ مِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ