سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 26

سيرة النبي علي 26 جلد 1 جھوٹے ہوتے کافی تھے آپ بڑھے اور پھولے اور پھلے اور دن رات آپ کا قدم آگے بڑھا۔اور جو کوئی آپ کے مقابلہ میں آیا ہلاک ہوا۔اور جو کوئی آپ پر گرا ہلاک ہوا اور جس پر آپ گرے اسے ہلاک کر دیا۔آپ کے مخالفین کے گھر اجڑ گئے ، ان کی بستیاں ویران ہو گئیں، جس نے آپ پر تلوار چلائی قتل کیا گیا۔ان کی بیویاں بیوہ ہو گئیں، ان کے بچے یتیم ہوئے ، ان پر رونے والا بھی کوئی نہ ملا۔چیلیں اور کتے آپ کے اعداء کا گوشت کھا گئے۔وہ دنیا و آخرت میں ذلیل کئے گئے اور کوئی نہ تھا جو ان کو بچاتا۔وہ برباد کر دیئے گئے اور کوئی نہ نکلا جو ان کی مدد کو آتا۔جنہوں نے آپ کو گمنام کرنا چاہا تھا وہ خود گمنام ہو گئے اور آج تک ان کے نام ونشان کا پتہ نہیں۔آج کوئی ہے جو ابو جہل کی نسل ہونا اپنے لئے پسند کرے؟ کیا کوئی ہے جو عتبہ وشیبہ کے نام اپنے آباء میں لینا فخر سمجھے؟ وہ صنادید عرب جو اپنے ملک کے باپ کہلاتے تھے ان کی عمارتیں آپ کے سامنے گر گئیں، وہ آپ کی اطاعت میں سر کے بل گرائے گئے۔ان کے ماتھوں پر غلامی کا داغ لگایا گیا، وہ بہادروں کا بہادر اور بادشاہوں کا بادشاہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ فتح کرنے گیا اور وہ بت جو خدائے واحد کے مقابلہ میں کھڑے کئے جاتے تھے اسی بندہ کے آگے سرنگوں کئے گئے اور اس کے زبر دست ہاتھوں ان کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔زمین سے لے کر آسمان تک اس کا نور چمکا اور خود خدا نے اس کے صدق پر شہادت دی اور اس کا رحیم کریم دل اپنے مخالفین کے لئے پیجا اور لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 1 کی دلکش آواز نے نہ صرف آپ کے مخالفین کے جسموں کو ہی بچا لیا بلکہ ان کی روحوں کو بھی ابدی دوزخ کے پھندے سے نجات دلا دی۔لیکن یسوع باوجود ان آسانیوں کے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ نہ اس کی قوم ایسی خطرناک تھی اور نہ اس کو اس سے ایسی دشمنی ہی تھی روز بروز کمزور ہی ہوتا گیا اور آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص جو اپنے حواریوں کو بارہ تختوں کا وعدہ دیتا تھا اور ابن اللہ