سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 25

سيرة النبي علي 25 جلد 1 زیادہ ہوا تو کہیں مار پیٹ پڑ جاتی تھی۔لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا نہ صرف عزیز و اقرباء سے قطع تعلق کر لینا تھا بلکہ اپنی جان سے بھی ناامید ہونا تھا۔چنانچہ حواریوں کا زیادہ سے زیادہ پیٹنا ثابت ہے اور صحابہؓ کا نہ صرف مارکھانا بلکہ قتل ہونا پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے۔اور پھر قتل بھی معمولی نہیں ایسے واقعات بھی ہیں کہ مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری دوسرے سے اور پھر دونوں کو مختلف سمتوں میں چلا دیا۔اور پھر مسیح کے ساتھ کی عورتوں کی نسبت تو گالی گلوچ بھی ثابت نہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ماننے والی عورتوں میں سے بعض کا قتل اور ایسا قتل کہ ان کے فروج میں نیزہ مار کر مار دیا گیا ثابت ہے۔پھر مسیح شہروں اور بستیوں میں کھلم کھلا وعظ دیتا پھرتا تھا اور رسول کریم میے کے مخالفین آپ کو اس قدر آزادی نہیں دیتے تھے بلکہ آپ کا اگے دیگے آدمیوں میں تبلیغ کرنا بھی وہ لوگ نا پسند کرتے تھے اور جہاں آپ کو دیکھتے زدو کوب کرنے سے نہ ٹلتے تھے۔پھر اگر مسیح کہیں بھاگ جاتا تو وہ لوگ ایسے ناراض نہ تھے کہ اس کا پیچھا کرتے۔لیکن رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف لے گئے تو آپ کا پیچھا لوگوں نے وہاں تک کیا۔مسیح کے پکڑنے کا خیال اس کے مخالفین کو ایسا نہ تھا جتنا کہ آپ کے مخالفین کو آپ کے گرفتار اور قتل کرنے کا تھا۔کیونکہ مسیح کے سر کا اس کے دشمنوں نے تمہیں درہم انعام مقرر کیا لیکن رسول اللہ کے لئے ایک سو اونٹ کا انعام اعلان کیا گیا۔پھر مسیح کی جنگ یعنی زبانی بات چیت صرف یہودیوں سے تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سچائی سے سب دنیا کو اپنے مقابل پر لاکھڑا کیا تھا اور مسیح اپنی حکومت کی پناہ میں تھا اور رسول اللہ ہے کے مقابل نہ صرف آپ کی اپنی قوم تھی بلکہ اُس وقت کی دونوں زبر دست یعنی قیصر روما اور کسری کے ایران کی حکومتیں بھی آپ کے استیصال کا ارادہ رکھتی تھیں اور علاوہ ان کے عرب کے مسیحی اور یہودی بھی آپ کے ساتھ بیر رکھتے تھے۔مگر باوجود ان تمام مشکلات کے جو رسول اللہ ہے کے راستہ میں تھیں اور ان خطرات کے جو آپ کی ہلاکت کے لئے اگر آپ (نعوذ باللہ ) صلى الله صلى الله