سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 394

سيرة النبي علي 394 جلد 1 رسول کریم علیہ کے اسماء گرامی عليسة انوار خلافت (فرمودہ دسمبر 1915ء) کے آخر میں حضرت مصلح موعو رسول کریم ﷺ کے اسماء گرامی پر پھر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔” میں نے جلسہ کے موقع پر اپنی ایک تقریر میں بتایا ہے کہ آنحضرت عالی فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔میرا نام محمد ہے کیونکہ میں سب انسانوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے حضور تعریف کیا گیا ہوں۔میں احمد ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر خدا کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں۔میں حاشر ہوں کہ دنیا کو اس کی روحانی موت کے بعد پھر زندہ کروں گا۔میں ماحی ہوں کہ دنیا کے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں ہو سکتا۔“ 66 انوار خلافت صفحہ 166) اسی مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :۔”دیکھو آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے ان تمام صفات حسنہ سے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں متصف فرمایا ہے۔اس لئے آپ ابراہیم بھی ہیں، نوح بھی ہیں، موسی“ بھی ہیں، عیسی بھی ہیں، اسماعیل بھی ہیں، اسحاق بھی ہیں اور تمام انبیاء کے جامع ہیں۔اب بتاؤ آنحضرت عہ جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے جامع تھے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے تو آپ میں سب کے نام اکٹھے تھے یا نہیں؟ اگر نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ آپ سب نبیوں کے جامع تھے۔لیکن اگر جامع تھے یعنی آدم کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ آدم تھے۔اگر نوح کے کمالات آپ میں پائے