سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 382

سيرة النبي علي 382 جلد 1 تھے۔یہی تو وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کر دور نہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پاسکو۔پس آنحضرت ﷺ کی طرف کسی گناہ کا منسوب کرنا تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے۔مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تو استغفار کر استغفار کر ! یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی ہے کہ انہی الفاظ کو مدنظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا کیونکہ قرآن اس کو حکم دیتا ہے کہ تو استغفار کر لیکن ہمارے مسیح کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا۔پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت ذَنُب کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گناہوں سے پاک۔اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی ہے اور گو انہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔یہی وجہ تھی کہ ہزار ہا مسلمانوں کی اولا د عیسائی ہوگئی۔اور تو اور سیدوں کی اولادوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں۔غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت ﷺ کی نسبت ان معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت ذنب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔اول سورۃ مؤمن میں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ