سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 377
سيرة النبي علي 377 جلد 1 صلى الله اب اس شعر سے کوئی احمق ہی یہ نتیجہ نکالے گا کہ جس شخص کا نام غلام محمد ہو وہ کرامت صلى الله دکھا سکتا ہے۔پس پہلے شعر میں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ایک غلام مسیح سے بہتر ہوسکتا ہے۔غرض کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو اس طرح آپ کی تعریف ہوتی ہے لیکن یہ عجیب تعریف ہے۔مثلاً ایک مدرس کی یوں تعریف کی جائے کہ اس کے پڑھائے ہوئے لڑکے کبھی پاس نہیں ہوتے بلکہ فیل ہی ہوتے ہیں اور اگر پاس بھی ہوتے ہیں تو بہت ادنی درجہ پر۔کیا یہ اس کی تعریف ہوگی اور اس سے اس کی عزت بڑھے گی؟ یہ تو اس پر ایک بہت بڑا حملہ ہو گا۔اسی طرح مسلمان کہتے ہیں کہ بے شک آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں، تمام سے بلند درجہ رکھتے ہیں اور تمام سے کمالات میں بڑھے ہوئے ہیں لیکن اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ آپ کے شاگرد کبھی اعلیٰ درجہ نہیں پاتے اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی سخت ہتک کرتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ہم پر الزام دیتے ہیں کہ تم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے ہو لیکن درحقیقت وہ آپ کی ہتک کر رہے ہیں۔اور وہ جو رحمۃ للعالمین ہے اس کو عذاب للعالمین ثابت کرتے ہیں۔ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی سچی عزت اور تعریف کرتے ہیں۔اور ہم عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم علیہ کی وہ عزت ہے کہ اس کا غلام بھی تمہارے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔لیکن دوسرے لوگوں کو یہ فخر حاصل نہیں ہے۔بھلا بتلاؤ ایک بادشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے یا شہنشاہ کا۔ہر ایک جانتا ہے کہ شہنشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔تو رسول اللہ ﷺ کی نسبت خیال کرو کہ ہم آپ کی یہ شان بیان کرتے ہیں کہ آپ کی غلامی میں نبی آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ دوسرے تمام نبی بادشاہ کی مانند ہیں اور آنحضرت ﷺ شہنشاہ۔کیونکہ آپ کے فیض سے نبی بن سکتے ہیں۔یہی تو آپ کی عزت ہے جو خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔صلى الله