سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 376

سيرة النبي ع 376 جلد 1 الله مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت حاصل ہوسکتی ہے۔آپ نے رحمۃ للعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہو سکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت الله میں کہ آنحضرت ﷺ کا غلام ہو۔ہمارے لئے کتنی عزت کی بات ہے کہ قیامت کے دن تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم کہیں گے کہ ہمارے نبی کی وہ شان ہے کہ آپ کا غلام ہی ہمارا نبی ہے۔لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی مسیح آئے گا جو بنی اسرائیل کے لئے آیا تھا۔اگر وہی آیا تو یہ قیامت کے دن کیا کہیں گے کہ ہمارے نبی آنحضرت ﷺ کی وہ شان ہے کہ آپ کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کا ہی ایک نبی آیا تھا۔اس بات کو سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت ﷺ کی ہتک تم کر رہے ہو یا ہم ؟ آنحضرت ﷺ کی اسی میں عزت ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو نبی کا ملے نہ کہ بنی اسرائیل کا کوئی نبی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے آئے۔درجه الله حضرت مسیح موعود نے اسی لئے فرمایا کہ: اس صلى الله ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو سے بہتر غلام احمد ہے یعنی ابن مریم کا تم کیوں انتظار کر رہے ہو مجھے دیکھو کہ میں احمد کا غلام ہو کر اس سے بڑھ کر ہوں۔کوئی کہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اس لئے آپ کا یہی نام ہوا۔میں کہتا ہوں کون مسلمان ہے جو اپنے آپ کو غلام احمد نہیں کہتا۔ہر ایک سچا مسلمان اور مومن یہی کہے گا کہ میں احمد کا غلام ہوں۔اسی طرح حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔چنانچہ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: کرامت گر چه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد