سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 375

سيرة النبي علي 375 جلد 1 اب بتاؤ آنحضرت ﷺ کی یہ ہتک ہے کہ آپ کی امت سے کوئی نبی نہیں بن سکتا یا یہ کہ آپ کے فیض سے آپ کی امت میں سے بھی نبی بن سکتا ہے۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان جو تمام جہان کے لئے رحمت اور فضل ہو کر آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے آ کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی تمام راہوں کو بند کر دیا ہے اور آئندہ نبوت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔لیکن میں کہتا ہوں نبوت رحمت ہے یا زحمت؟ اگر رحمت ہے تو آنحضرت ﷺ کے بعد بند کیوں ہو گئی؟ آپ کے بعد تو زیادہ ہونی چاہئے تھی آپ تو ایک بہت بڑے درجہ کے نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آتا وہ بھی بڑے درجہ کا ہونا چاہئے تھا نہ یہ کہ کوئی نبی ہی نہ بن سکتا۔دیکھو! دنیا میں مدر سے ہوتے ہیں۔لیکن کسی مدرسہ والے یہ اعلان نہیں کرتے کہ ہمارے مدرسہ میں اپنے لڑکوں کو بھیجو کیونکہ ہمارے مدرسہ کے استاد ایسے لائق ہیں کہ ان کے پڑھائے ہوئے لڑکے ادنی درجہ پر ہی پاس ہوتے ہیں۔لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شان بلند ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ آپ کے شاگر د ادنی درجہ پر پاس ہوتے ہیں اس لئے آپ کی بڑی شان ہے۔لیکن آنحضرت ﷺ کی شان پر یہ ایک ایسا زبردست حملہ ہے کہ جو ابھی تک کسی عیسائی یا آریہ نے بھی نہیں کیا۔کیونکہ وہ در حقیقت آپ سے دشمنی رکھتے ہیں اور آپ کو رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھتے ہیں۔لیکن یہ آپ کو رحمت سمجھ کر پھر یہ درجہ دیتے ہیں اور وہ جو دوسروں کے درجہ کو بڑھانے آیا تھا اس کے درجہ کو گھٹاتے ہیں۔مگر ہم رسول کریم ہے کی اس ہتک کو ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی کہیں گے تو لوگ ہماری مخالفت کریں گے اور ہمیں دکھ دیں گے۔میں کہتا ہوں حضرت مرزا صاحب کو نبی نہ کہنے میں آنحضرت ﷺ کی سخت ہتک ہے جس کو ہم کسی مخالفت کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے۔وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور