سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 24

سيرة النبي علي 24 جلد 1 ماتحت اس پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔اور گو وہ غضب میں اندھے بھی ہو جاتے مگر ان کے لئے بغیر قانون کی آڑ کے اور کوئی وسیلہ نہ تھا جس سے مسیح کو سیدھا کرسکیں۔برخلاف اس کے رسول اللہ علیہ کو جس قوم سے واسطہ پڑا تھا وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے کے لئے بالکل آزاد اور مختار تھی اور کوئی قانون نہ تھا جو ایسے سخت سے سخت ارادوں کی روک تھام کر سکے۔اور نہ صرف کوئی دنیاوی سلطنت یا قانون ہی اس کو اپنی حدود میں نہ رکھ سکتا تھا بلکہ کوئی شریعت بھی اس قوم کے پاس نہ تھی جو کہ اس کے دل پر حکومت کرتی ہو۔اور نہ ہی علوم سے ان کو کچھ بہرہ تھا کہ اخلاق کی رہنمائی سے ہی وہ اپنے جوشوں سے باز رہتی۔پس اگر مسیح کی قوم قیدی تھی تو یہ اس کے برخلاف آزاد تھی۔اور اگر وہ بند تھی تو یہ کھلی تھی۔اور اگر اس کے رستہ میں رکا وہیں تھیں تو یہ بے روک ٹوک تھی۔اور اگر وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے سے قاصر تھی تو یہ قادر تھی اور وہ کسی شریعت کے جوئے یا عذاب کے خوف کے نیچے تھی تو یہ ان دونوں باتوں بری۔پس جو اختیار کہ مسیح پر اس کی قوم کو تھا اس سے کہیں زیادہ رسول اللہ ﷺ پر آپ کی قوم کو تھا اور جو نقصان کہ مسیح کی قوم اس کو بسبب گونا گوں رکاوٹوں کے نہ پہنچا سکتی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کی قوم اپنی آزادی کی وجہ سے پہنچا سکتی تھی۔پھر مسیح قانون کی پناہ میں ہونے کے علاوہ اپنے ماں باپ کی پناہ اور اپنے بھائیوں کی حمایت میں تھا برخلاف اس کے رسول اللہ ﷺ کے والدین اور دادا آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور صرف ایک چا کی مدد آپ کے ساتھ تھی۔پھر مسیح کی تعلیم وہی تھی جو کہ تو رات و زبور وغیرہ کی ہے لیکن رسول اللہ نے کفار کے اپنے طرز عمل کو ہی برا نہ کہتے تھے بلکہ ان کے معبودوں کو بھی حَصَبُ جَهَنَّم قرار دیتے تھے۔جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسیح کی قوم کو ان سے کچھ زیادہ اختلاف نہ تھا مگر رسول اللہ ﷺ کی قوم میں اور آپ میں ایک اختلافات کا سمندر حائل تھا جو ان کو آپ کی مخالفت کے لئے ہر دم ابھارتا تھا۔پھر جو شخص مسیح کی پیروی کرتا تھا اسے سوائے گالیوں کے کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا یا صلى الله صلى