سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 372

سيرة النبي علي 372 جلد 1 کے بزرگوں نے رکھنے تھے اور عرب لوگ نبوت کے قائل ہی نہ تھے وہ آپ کا نام نبي الرحمة کیونکر رکھ سکتے تھے۔غرض یہ حدیث آپ ہی پکار پکار کر کہہ رہی ہے صلى الله کہ اس میں رسول کریم ﷺ کے نام نہیں بلکہ آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔شاید اس جگہ کوئی شخص یہ بھی سوال کر بیٹھے کہ اوپر کے بیان سے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام محمد بھی نہ تھا کیونکہ محمد بھی اس حدیث میں دوسری صفات کے ساتھ آیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث میں محمد بطور صفت ہی بیان ہوا ہے بطور نام نہیں۔ہاں قرآن کریم اور دوسری احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کا نام محمد تھا اس حدیث میں سب صفات ہی بیان ہوئی ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس حدیث میں رسول کریم ﷺ نے تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کہ میرے یہ یہ نام ہیں۔اب ظاہر ہے کہ نام ہونا تو کوئی تعریف نہیں ہوتی۔کیا رسول کریم ﷺ جیسا انسان صرف نام پر فخر کرے گا؟ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ۔بات یہی ہے کہ آپ نے اس جگہ اپنی صفات ہی بیان فرمائی ہیں اور خدا تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ اس نے مجھے محمد بنایا ہے، احمد بنایا ہے اور دیگر صفات حسنہ سے متصف کیا ہے۔اور محمد بھی اس جگہ بطور صفت کے استعمال ہوا ہے نہ بطور نام کے اور اس میں آپ نے بتایا ہے کہ میرا صرف نام ہی محمد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے کاموں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی میں محمد ہوں جس کی خدا نے تعریف کی ہے۔فرشتوں نے پا کی بیان کی ہے۔میں وہ ہوں جو سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی تعریف پاکی کرنے والا ہوں۔میں وہ ہوں جو دنیا سے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔میں وہ ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے اور میں وہ ہوں جو سب سے آخری شریعت لانے والا نبی ہوں۔اگر اس حدیث میں صرف اتنا ہی آتا کہ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں تو کوئی کہ سکتا تھا کہ یہ آپ کے نام ہیں صفات نہیں ہیں۔لیکن جب انہی کے ساتھ ماحی، حاشر اور عاقب بھی آ گیا تو معلوم ہوا کہ یہ سب آپ کی صفات