سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 371

سيرة النبي علي 371 جلد 1 حالانکہ سب مسلمان تیرہ سو سال سے متواتر اس بات کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ ماحی اور عاقب اور حاشر آپ کی صفات تھیں نام نہ تھے۔پس جبکہ ایک ہی لفظ پانچوں ناموں کے لئے آیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک جگہ اس کے معنی نام لئے جائیں اور ایک دوسرے لفظ کے متعلق اسی لفظ کے معنی صفت لئے جائیں۔غرض اس جگہ اسماء سے مراد نام لئے جائیں تو پانچوں نام قرار دینے پڑیں گے جو کہ بالبداہت غلط ہے۔اور اگر صفت لئے جائیں تو اس حدیث سے اسی قدر ثابت ہوگا کہ آنحضرت عیہ کی صفت احمد بھی تھی اور اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں بلکہ انکار کرنے والا مومن ہی نہیں ہوسکتا۔ممکن ہے کہ کوئی شخص اس حدیث سے یہ استدلال کرے کہ رسول کریم ﷺ نے محمد واحمد کی تو تشریح نہیں کی اور دوسرے تینوں ناموں کی تشریح کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں آپ کے نام ہیں اور دوسری تین آپ کی صفات ہیں کیونکہ تبھی ان کے معنی کر دیے۔لیکن یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اول تو یہ دلیل ہی غلط ہے کہ جس کی تشریح نہ کی جائے وہ ضرور نام ہوتا ہے۔بلکہ تشریح صرف اس کی کی جاتی ہے جس کی نسبت خیال ہو کہ لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھیں گے۔دوسرے ایک اور روایت اس دلیل کو بھی رد کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَحْمَدُ وَالْمُقَفِّى وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ۔۔۔۔۔وَنَبِيُّ الله التَّوْبَةِ وَ نَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ 5 یعنی رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بتائے جن میں سے بعض ہم کو بھول گئے اور بعض یاد رہ گئے۔آپ نے فرمایا کہ میرا نام محمد ہے، میرا نام احمد ہے، میرا نام مقفی ہے، حاشر ہے، نبی الرحمة، نبي التوبة، اور نبی الملحمة ہے۔اس حدیث میں مقفی اور نبی الرحمۃ اور نبى التوبۃ اور نبی الملحمۃ کی تشریح نہیں کی لیکن یہ سب صفات ہیں۔آج تک کسی نے بھی ان کو نام تسلیم نہیں کیا اور نہ یہ نام ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ کے نام تو آپ