سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 370

سيرة النبي علي 370 جلد 1 کہے کہ قرآن میں چونکہ خدا کی نسبت مکر کرنے والا آیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا خدا مکار ہے۔چونکہ آریہ نہیں جانتے کہ مکر کا لفظ اگر اردو میں استعمال ہو تو برے معنی لئے جاتے ہیں اور عربی میں برے معنوں میں نہیں آتا اس لئے وہ اس کو قابلِ اعتراض سمجھتے ہیں۔حالانکہ عربی میں مکر کے معنی ہیں تدبیر کرنا اور چونکہ قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے مکر کے وہی معنی کرنے چاہئیں جو عربی زبان میں مستعمل ہوتے ہیں نہ کہ اردو کے معنی۔یہی بات یہاں ہے۔ان لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس حدیث میں لفظ اسماء کا آیا ہے۔اردو میں چونکہ اسم نام کو ہی کہتے ہیں اس لئے انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے یہ سب نام ہیں حالانکہ عربی میں اسم بمعنی صفت بھی اور اسم بمعنی نام بھی آتا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب اسم صلى اللهم کے دو معنی ہیں تو ان دو معنوں میں سے یہاں کون سے لگائے جائیں۔قرآن کریم میں 4 اسم بمعنی صفات کے آیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى یعنی سب اچھے نام خدا تعالیٰ کے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ اسم ذات تو اللہ تعالیٰ کا ایک ہی ہے یعنی اللہ۔باقی تمام صفاتی نام ہیں نہ کہ ذاتی۔پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسم بمعنی صفت بھی آتا ہے بلکہ قرآن کریم میں تو صفات الہیہ کا لفظ ہی نہیں ملتا۔سب صفات کو اسماء ہی کہا گیا ہے اور جبکہ اسم بمعنی صفت بھی استعمال ہوتا ہے تو حدیث کے معنی کرنے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں رہتی۔اس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی صفات گنوائی ہیں کہ میری اتنی صفات ہیں۔میں محمد ہوں یعنی خدا نے میری تعریف کی ہے میں احمد ہوں کہ مجھ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی تعریف کسی اور شخص نے بیان نہیں کی۔میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کفر مٹانا ہے۔میں حاشر ہوں کہ میرے ذریعہ سے ایک حشر برپا ہوگا۔میں عاقب ہوں کہ میرے بعد اور کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔اور اگر اس حدیث کے ماتحت رسول کریم علیہ کا نام احمد رکھا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کا نام ماحی بھی تھا اور حاشر بھی تھا اور عاقب بھی تھا۔