سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 369

سيرة النبي علي 369 جلد 1 ہوئے تا کہ فارقلیط کی اس شرط کو پورا کریں کہ وہ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ رہے گی۔اور کون سا نبی ہے جس پر ایمان لانا اور اس کے حکموں کو ماننا قیامت تک واجب رہے گا سوائے ہمارے آنحضرت کے۔غرض اِسْمُهُ اَحْمَدُ کے ساتھ فارقلیط والی پیشگوئی کا کوئی تعلق نہیں اور یہ پیشگوئی بہر حال رسول کریم میے کے متعلق ہے خواہ اس کے معنی احمد کے مطابق ہوں یا اس کے غیر ہوں۔اور اگر اس کے معنی احمد کے مطابق بھی فرض کر لئے جائیں تو کیا صلى الله رسول کریم ﷺ اپنی صفات میں احمد نہ تھے؟ کیا کوئی اس کا انکار کرتا ہے؟ بلکہ انجیل میں فارقلیط کا نام آنا ہی دلالت کرتا ہے کہ یہاں صفت مراد ہے کیونکہ ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ہاں صفات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔پس اگر اس پیشگوئی میں تسلیم کیا جائے کہ آپ کی صفت احمدیت کی طرف اشارہ ہے تو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ فارقلیط والی پیشگوئی میں اِسْمُهُ اَحْمَدُ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشگوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔شاید بعض لوگ میرے مقابلہ میں بخاری کی حدیث پیش کریں۔عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمْ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَ أَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ وَ أَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ 3۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔میرا نام محمد ہے، میرا نام احمد ہے، میرا نام ماحی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا، میرا نام حاشر ہے کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے۔اور میرا نام عاقب ہے اور عاقب کے معنی ہیں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔غیر مبائعین کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسا ایک آریہ