سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 365

سيرة النبي علي 365 صلى الله رسول کریم عیہ کے اسمائے گرامی جلد 1 حضرت مصلح موعود نے 27 ،28، 30 دسمبر 1915 ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں جو خطابات ارشاد فرمائے وہ اکتوبر 1916ء میں انوارِ خلافت“ کے نام سے شائع ہوئے۔اس مجموعہ خطابات میں آپ نے آنحضور ﷺ کے اسمائے گرامی پر مختلف پیرایوں میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔و آنحضرت ﷺ کو بھی کفار گالیاں دیتے تو آپ فرماتے کہ میرا نام محمد ہے جس کے معنی ہیں کہ بہت تعریف کیا گیا پھر مجھے کس طرح گالی لگ سکتی ہے۔اسی طرح عرب کے کفار جب آپ کو گالی دیتے تو اُس وقت آنحضرت ﷺ کا نام محمد نہ لیتے بلکہ مدتم کہتے۔اس کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے کہ اگر یہ لوگ میرا نام محمد لے کر گالیاں دیں تو مجھے گالی لگ ہی نہیں سکتی کیونکہ جسے خدا پاک ٹھہرائے کون ہے جو اس کی نسبت کچھ کہہ سکے اور اگر مذقم کہہ کر گالیاں دیتے ہیں تو دیتے جائیں یہ میرا نام ہی نہیں۔کفار عرب اہل زبان تھے اس لئے وہ اتنی سمجھ رکھتے تھے کہ محمد نام لے کر ہم گالی نہیں دے سکتے لیکن یہ چونکہ عربی نہیں جانتے اس لئے یہ گالی دیتے ہیں کہ تم محمودی ہو۔ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ ہم محمودی ہیں کیونکہ یہ تو رسول کریم ﷺ کا وہ مقام ہے صلى الله جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا 1 - اگر ہمارا رسول کریم ﷺ سے اس عظیم الشان درجہ کے ذریعہ سے تعلق قائم ہو جسے صلى الله اللہ تعالیٰ نے انعام عظیم کے طور پر آپ کے لئے وعدہ فرمایا ہے تو ہمارے لئے اس سے زیادہ فخر اور کیا ہوسکتا ہے۔“ (انوار خلافت صفحہ 16)