سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 362

سيرة النبي علي 362 جلد 1 خیال بھی نہیں تھا جو اس لڑکے نے ظاہر کیا۔پھر دوسرے لڑکے نے یہی سوال کیا۔میں حیران رہ گیا۔ابوجہل فوج کا کمانڈر اور قلب لشکر میں کھڑا تھا۔اس کے اردگرد بڑے بہادر اور زور آور آدمی لڑ رہے تھے۔میں نے اشارہ کر کے بتایا اور اشارہ کیا ہی تھا کہ دونوں لڑکے بجلی کی طرح کوند کر اس پر جا پڑے اور راستے کے لوگوں کو چیرتے ہوئے اس تک پہنچ گئے۔گو ایک کا ہاتھ کٹ گیا مگر دونوں نے جا کر ابوجہل کو گرالیا 4۔یہ بچوں کا حال تھا۔عورتوں کا تو اس سے بھی عجیب تھا۔دنیا میں ماتم عورتوں سے ہی چلا ہے کیونکہ یہ کمزور اور ضعیف دل ہوتی ہیں اور کسی صدمہ اور غم سے جلد ہی گھبرا جاتی ہیں۔مگر آنحضرت ہی کی صحبت میں اور ہی نظارہ دیکھنے میں آتا ہے۔اُحد کی جنگ میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔جب اس لڑائی سے لشکر واپس آرہا تھا تو مدینہ کی عورتیں مدینہ سے باہر دیکھنے کیلئے نکل آئیں۔ایک عورت نے ایک سپاہی سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ کا کیا حال ہے؟ چونکہ آپ بخیریت واپس تشریف لا رہے تھے اور سپاہی اس طرف سے مطمئن تھا اس لئے اس نے اس بات کا تو کوئی جواب نہ دیا اور اس عورت سے کہا کہ تیرا خاوند مارا گیا ہے۔اس نے کہا میں نے تم سے یہ پوچھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ تیرا باپ بھی مارا گیا ہے (چونکہ اس سپاہی کا دل آنحضرت مے کی طرف سے بے فکر تھا اس لئے وہ صلى الله وہی جواب دیتا جو اس کے نزدیک اس عورت کیلئے ضروری تھا) عورت نے کہا میں نے تو یہ پوچھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا بھائی بھی مارا گیا ہے۔اس نے کہا میں تم سے یہ نہیں پوچھتی، مجھے یہ بتاؤ کہ آنحضرت کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا آپ تو خیریت سے ہیں۔عورت نے کہا کہ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو اور کسی کی کیا پرواہ ہے 5۔جب ایک اعلیٰ درجہ کی چیز محفوظ ہے تو اس پر ادنی درجہ کی چیزوں کے قربان ہو جانے کا کیا رنج۔