سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 361

سيرة النبي علي 361 جلد 1 کر کے اندر فساد مچا دیا تو مسلمانوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑیں گے اور دشمن پہلے ہم کو قتل کرے گا پھر کہیں آپ تک پہنچنے پائے گا 3۔یہ اس قوم کا حال ہے جو بہت قلیل عرصہ یعنی صرف ڈیڑھ دو سال تک آپ کی صحبت میں رہی مگر باوجود اس کے اس کا ایمان اتنا ترقی کر گیا۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت جو قریباً بیس سال ان کی صحبت میں رہی اور جس نے بڑے بڑے نشانات دیکھے انہیں جب لڑنے کیلئے کہا گیا اور دشمن کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہ تھی تو اس نے جواب دیا کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑئیے۔آنحضرت ﷺ کی صحبت میں ایک قلیل عرصہ رہنے والی جماعت کا یہ حال ہے کہ اس کا مقابلہ ایک خطرناک گروہ سے ہو جاتا ہے جو یوں تو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تھا لیکن مقابلہ کیلئے جو آئے وہ بھی بہت زیادہ تھے با وجود اس کے وہ آنحضرت ﷺ کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔آپ تک اُس وقت تک کوئی دشمن نہیں پہنچ سکتا جب تک ہم سب کو مار نہ لے۔پھر مردوں ہی میں یہ جوش نہیں بلکہ لڑکوں اور بچوں میں بھی یہی جوش ہے۔چودہ پندرہ سال کے لڑکوں میں وہ جرات اور دلیری پائی جاتی تھی جو اس زمانہ میں بڑے بڑے جوانوں میں نہیں۔اب اگر اس عمر کے لڑکوں کو نماز کیلئے کہا جائے تو والدین کہہ دیتے ہیں ابھی بچے ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ کی زبان میں وہ اثر تھا کہ دنیا کی وہ قوم جو بچے کہلاتی ہے ان میں وہ روحانیت اور جوش تھا کہ آج کل کے بڑے سے بڑے بہادروں میں نہیں ہے۔بدر کی جنگ کا واقعہ ہے۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں اس لڑائی میں میرے پہلو بہ پہلو دولڑ کے تھے۔میں نے خیال کیا کہ آج کی لڑائی بے مزا ہی رہے گی ( کیونکہ لڑنے میں اسی وقت مزا آتا ہے جبکہ دونوں پہلوؤں میں بھی بہادر لڑ رہے ہوں ) میرے دل میں یہ خیال پیدا ہی ہوا تھا کہ ایک نے مجھ سے پوچھا چچا ! ابوجہل جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا اور بڑی بھاری مخالفت کرتا ہے کہاں ہے؟ مجھے بتاؤ تا میں اسے قتل کروں۔یہ بڑے بہادر تھے کہتے ہیں میرے دل میں یہ