سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 360

سيرة النبي علي 360 جلد 1 اطاعت کا جوا اٹھائے بغیر کسی کیلئے نجات کا دروازہ نہیں کھلا۔تو اتنی بڑی حکومت آپ کو عطا ہوئی۔پھر آپ کے کلام کو وہ اثر بخشا کہ آپ کی باتوں کوسن کر جنہوں نے ہدایت پائی تھی ان کی شان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بڑھایا کہ کسی نبی کی صحبت یافتہ جماعت ان سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔قرآن شریف میں جن نبیوں کا ذکر ہے ان میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے بڑے ہیں۔ان سے پہلے نبیوں کی امتوں کا حال تو ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہی کوئی مفصل تاریخ ہے جس سے یہ پتہ لگ سکے کہ حضرت نوح حضرت ابراہیم وغیرہ انبیائو کی امتیں کیسی تھیں۔مگر موسیٰ علیہ السلام کی امت کا حال معلوم ہوتا ہے جو تاریخوں میں بھی پایا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی کھول کر بتا دیا ہے۔قرآن کریم نے تو اس لئے بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کے مثیل تھے۔ان دونوں انبیاء کی امتوں کا حال دیکھیں تو بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت تو وہ ہے جو ایک اتنے بڑے نبی کے عظیم الشان نشان دیکھ چکی ہے۔انہوں نے فرعون کو غرق ہوتے دیکھا، جنگلوں اور بیابانوں میں خدا تعالیٰ کی نصرت اور مددکو شامل حال پایا لیکن پھر بھی یہ حال ہے کہ ایک جگہ لڑائی کے لئے حکم ہوا تو قَالُوا يَمُوْسَى إِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 2 کہتے ہیں اے موسیٰ ! آپ اور آپ کا رب جا کر ان سے لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔جب وہ وہاں سے چلے جائیں گے تب ہم داخل ہوں گے۔یہ اس قوم کا حال ہے جس نے بڑے بڑے معجزے دیکھے، بہت مدت نبی کی صحبت میں رہی۔لیکن آنحضرت ﷺ کی جماعت کا حال سنئے۔جب آپ مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں سے آپ نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر مدینہ سے باہر جنگ ہو تو تم اس میں لڑنے کے پابند نہیں لیکن اگر مدینہ کے اندر ہو تو اس کے روکنے میں مدد دینا تمہارا فرض ہوگا۔اس معاہدہ میں عیسائی اور یہودی بھی شامل تھے۔لیکن جب ایک دفعہ جنگ کا موقع آیا اور یہود نے بدعہدی