سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 354
سيرة النبي علي 354 جلد 1 یہود کو کہتے ہیں ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ 3۔مجوس کو کہتے ہیں کہ اللہ ہی نور اور ظلمت کو پیدا کرنے والا ہے 4۔جو کچھ تم کہتے ہو غلط ہے۔مشرکین کو فرماتے ہیں اِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ 5۔اور گناہ تو خدا تعالیٰ بخش دے گا لیکن جو کچھ تم کرتے ہو یہ ایسا گناہ ہے کہ کبھی نہ بخشا جائے گا۔غرض تمام دنیا کے مذاہب کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔اور وہ زمانہ کوئی امن کا زمانہ نہیں کہ آج کل کی طرح اپنے گھر بیٹھے جو جی میں آیا کسی کی نسبت کہہ دیا بلکہ ایسا زمانہ تھا کہ لوگ اپنے خلاف بات سن کر تلوار اٹھا لیتے تھے اور آپس کی مخالفت کو تلوار کے ذریعہ مٹانا چاہتے تھے۔ایسے وقت میں آنحضرت مے کا تمام دنیا کے لوگوں کو علی الاعلان یہ کہنا کہ تم غلطی پر ہو اور تمہارے پاس حق نہیں ہے ساری دنیا سے جنگ چھیڑنا ہے۔پھر یہ جنگ ایک دن نہیں ، دو دن نہیں، تین دن نہیں بلکہ متواتر 23 سال ہوتی رہتی ہے۔باوجود اس کے صلى الله آپ کو دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی ساری عمر میں کبھی آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر ملال اور رنج کا نشان بھی نہیں دیکھا بلکہ جب کبھی دیکھا تبسم فرماتے ہی دیکھا؟۔واقعی آپ کو کیوں رنج ہوتا جبکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - 2 - کہ تمہارا بوجھ تو وہ تھا کہ کمر چُور کر دیتا مگر جب تم نے ہماری فرمانبرداری کی تو ہم نے اس کو تم پر سے اس طرح اٹھایا کہ تمہیں ظاہری خوشی اور خرمی ہی حاصل نہ ہوئی بلکہ ہم نے تمہارے دل کو بھی خوشی کے لئے کھول دیا۔میں نے بتایا ہے کہ عید ظاہری خوشی کا۔سامان ہے جن کے دل مغموم ہوں انہیں خوشی نہیں ہو سکتی لیکن آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تو تیرا سینہ کھول دیا ہے اور دل میں بھی خوشی بھر دی ہے۔بعض غم ایسے ہوتے ہیں جن کا ظاہر پر تو اثر نہیں ہوتا لیکن دل پر ضرور ہو جاتا ہے۔فرمایا یہاں تو ایسی خوشی ہے اور اللہ کے وعدوں پر ایسا یقین اور بھروسہ ہے کہ کوئی بھی