سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 353
سيرة النبي علي 353 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ کا عزم واستقلال حضرت مصلح موعود نے 13 اگست 1915ء کو قادیان میں خطبہ عید الفطر دیتے ہوئے فرمایا:۔۔یا درکھو انبیاء کی ہر روز عید ہوتی ہے۔دنیا کی کوئی تکلیف انہیں غمگین نہیں کر سکتی اور کوئی رنج ان کی کمر نہیں توڑ سکتا۔اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی نسبت فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِى اَنْقَضَ ظَهْرَكَ 1۔ہر ایک انسان پر خصوصاً کام کرنے والے انسان پر اور پھر خصوصاً مصلح پر بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے خواہ وہ مصلح دنیا کا ہو یا دین کا کام اور فکر کی وجہ سے وہ چُور ہو جاتا ہے۔چونکہ آنحضرت ﷺ پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تیرا بوجھ اٹھا لیا۔کیوں؟ اس لئے کہ جب تو ہمارا مطیع و منقاد اور فرمانبردار ہو گیا تو پھر تجھ پر بوجھ کیوں رہنے دیا جاتا۔بوجھ تو واقعہ میں ایسا تھا کہ تیری کمر توڑ دیتا اور کوئی اسے اٹھا نہ سکتا تھا کیونکہ ایک گھر کا بوجھ اٹھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔لڑائی جھگڑا ہو تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔اب جو جنگ ہو رہی ہے اس کی وجہ سے تمام سلطنتوں کے وزراء گھبرا گئے ہیں کہ یہ کام بہت بڑھ گیا ہے اس لئے ان کی مددگار کمیٹیاں بنادی گئی ہیں۔مگر آنحضرت ہے وہ انسان تھے جو ایک جنگ چھیڑتے ہیں اور سارے جہان کے ساتھ چھیڑتے ہیں۔آپ صرف اکیلے اور تن تنہا ہیں جن کی نسبت وطن والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ گلا گھونٹ کر مار دیں گے لیکن آپ سارے جہان سے جنگ شروع کرتے ہیں۔عیسائیوں کو کہتے ہیں لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةِ