سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 346

سيرة النبي علي 346 جلد 1 گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس صلى الله کا قرب نہ تلاش کروں۔میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ :۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم2 اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدہ کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت مے کی ہتک ہے۔بے شک اگر یہ مانا جائے کہ کوئی شخص ایک ایسی شریعت لایا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کر دے گی تو اس میں آنحضرت کی ہتک ہے۔اور اگر یہ مانا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آئے گا جو آپ کی اطاعت کے بغیر صلى الله انعام نبوت پائے گا تو اس میں بھی آپ ﷺ کی ہتک ہے۔کیونکہ اس کا یہ مطلب صلى الله ہو گا کہ آنحضرت ہی کا فیضان کمزور ہے کہ آپ کی موجودگی میں براہ راست فیضان کی حاجت پیش آئی۔لیکن اسی طرح اس عقیدہ میں بھی آنحضرت لعل الله ہتک ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا فیضان ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات نہیں پاسکتا۔دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور وہی افسر معزز کہلاتا ہے جس کے ماتحت معزز ہوں۔یہ بات ہرگز فخر کے قابل نہیں کہ آپ کے شاگردوں میں سے کسی نے اعلیٰ مراتب نہیں پائے بلکہ آپ کی عزت بڑھانے والی یہ بات ہے کہ شاگردوں میں سے ایک ایسا لائق ہو گیا جو دوسرے استادوں سے بھی بڑھ گیا۔آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت علیہ رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف؟ صلى الله