سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 345
سيرة النبي علي 345 جلد 1 جس شخص نے آپ کے درجہ کو نہ پہچانا وہ بد بخت ہے اور اس کا انجام خراب ہے۔بد قسمت ہے وہ انسان جس نے آپ کے دامن کو نہ پکڑا اور بدنصیب ہے وہ انسان جس نے آپ کی غلامی کا جو اپنی گردن پر نہ رکھا۔اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں کمال پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 1 یعنی اے ہمارے رسول ! ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔پس اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا ایک اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت مہ کی غلامی اختیار کرے۔جس قدر کوئی شخص آپ کی اطاعت کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے بڑھے گی۔پس جب ہم کسی شخص کو آپ کی امت میں سے نبی کہتے ہیں تو اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ شخص آپ کے غلاموں میں سے سب سے زیادہ فرمانبردار غلام ہے۔اس کا نبی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آنحضرت مے کی اتباع میں کمال کو پہنچ گیا ہے۔پس اس قسم کے نبی ماننے میں ہم آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں کرتے بلکہ آپ کے درجہ کی بلندی کا اظہار کرتے ہیں۔اور جوشخص اپنے قول یا فعل سے رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتا ہے وہ بے شک ملعون ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس کے لئے بند ہیں۔نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت علی کی ہتک کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم؟ اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے۔وہ کیا جانے کہ محمد ﷺ کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔وہ میری جان ہے، میرا دل ہے ، میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے۔اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔اس کے