سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 338
سيرة النبي علي 338 جلد 1 رسول کریم اللہ کی قرب وفات کا واقعہ علی حضرت مصلح موعود اپنی تصنیف ”حقیقۃ النبوة‘ مطبوعہ 3 مارچ 1915 ء میں رسول کریم ﷺ کی قرب وفات کے تعلق میں ایک واقعہ کا ذکر بایں الفاظ کرتے ہیں :۔احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپ مسجد میں آئے اور ایک خطبہ بیان کیا اور اس خطبہ میں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے سامنے دو باتیں پیش کیں۔ایک تو یہ کہ وہ دنیا کو اختیار کرے اور دوسری یہ کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے پسند کرے۔پس اس بندے نے جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاس ہے اسے قبول کر لیا۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق بے اختیار رو پڑے اور آپ کی چیخیں نکل گئیں اور آپ نے فرمایا یا رسول اللہ ! ہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کر دیں گے۔آپ کے رونے اور اس طرح بول اٹھنے پر صحابہ بہت حیران ہوئے اور بعض نے کہا کہ ان کو کیا ہوا کہ رسول اللہ ہے تو کسی بندہ کا حال سناتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں میں سے ایک بات پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ اسے سن کر رو ر ہے ہیں۔لیکن ابو بکر نے جس صدق کو پا لیا تھا اور جس راستی کو سمجھ لیا تھا اس کو نہ حضرت عمرؓ سمجھ سکے نہ کوئی اور صحابی۔بات یہ تھی کہ اُس وقت سید الکونین اپنی وفات کی خبر دے رہے تھے جسے سن کر اس صادق القول کا دل جس نے اپنے قول کی اپنے عمل سے شہادت دے دی تھی اور جو اپنے ہادی کی ہر ایک حرکت اور سکون اور ہر ایک قول کا نہایت غور سے مطالعہ کرتا رہتا تھا اور گویا اپنے وجود کو اس کے