سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 19
سيرة النبي علي 19 جلد 1 وہ اس بات کی محتاج تھی کہ بجائے الگ الگ نبی آنے کے ایک ہی نبی آئے جو کامل اور مکمل ہو ، جس کے وجود پر تمام دنیا کی ہدایت کا دارو مدار ہو اور جس کے توسط سے لوگ اس خالق حقیقی تک پہنچیں کہ جس تک پہنچنا تمام بزرگیوں سے بزرگ تر اور تمام انعامات سے بڑا انعام ہے۔اس لئے ہم نے تجھ کو اس کام کے لئے چنا اور بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کیا۔مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔اور تیری بے کسی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو ایسا کمزور اور غیر مشہود ہے اس کی تعلیم اور ہدایت تمام دنیا میں کس طرح پہنچے گی اور کس طرح تمام دنیا کے لئے بشیر و نذیر ہو جائے گا۔ایک ہمارا مقابلہ تو یہ کر نہیں سکتا پھر سب دنیا میں اس کے پیرو کس طرح پھیل جائیں گے اور یہ چند آدمی بڑھتے بڑھتے کل دنیا کا احاطہ کس طرح کر لیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے خیالات و اقوال کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ جب مخالفین اسلام نے آنحضرت ﷺ کا یہ قول سنا کہ میں سب دنیا کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور سب کے لئے بشیر و نذیر ہو کر آیا ہوں اور میری تعلیم ہر جگہ پھیل جائے گی تو وہ حیران ہوئے وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ 5 یعنی اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا اور کب آپ کی بشارت اور آپ کا انذار تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور آپ کے دشمن ذلیل اور پیرو با عزت ہوں گے۔اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُل لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ ان کو کہہ دو کہ دوسروں سے تم کو کیا اپنی سنو کہ تمہارے لئے ایک یوم ( جو الہامی کتب میں ایک قلیل مدت سے مراد ہوتی ہے) کی مدت مقرر ہو چکی ہے۔اب اس مدت کے اندر اندر تم کو انذار سنا دیا جائے گا۔اور موقع بدر پر تم کو اس انکار کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔باقیوں کا معاملہ خدا کے سپرد ہے جب ان کا موقع آئے گا ان تک بھی یہ کلام پہنچ جائے گا۔ہاں تمہارا واقعہ ان کے لئے ایک عبرت کا کام دے گا۔چنانچہ ان لوگوں نے بدر کے موقع پر اپنی قسمت کا انجام دیکھ لیا اور کچھ مدت کے اندر اندر ہی