سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 316

سيرة النبي علي 316 جلد 1 اور بے عیب تعلیم کو سن کر اس پر ایمان لے آئے تھے لیکن کل شورہ پشت اور خبیث الفطرت انسان اس کے استیصال کے درپے تھے اور جس طرح بھی ہو اس کے دین کو مٹانے کے لئے ہر طرح سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے آخر آپ کے پیروؤں کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور خود آپ کو بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔مدینہ آپ کے لئے اور بھی مشکلات کا مقام ثابت ہوا اور وہاں آپ کے عزم اور استقلال نے اور بھی نمایاں طور پر اپنا کمال دکھایا۔کفار مکہ کی مخالفت بدستور جاری رہی۔یہود و نصاری اور منافقین کے تین نئے گروہ بھی آپ کی ایذا دہی پر ایستادہ و تیار ہو گئے۔آج مسلمان دنیا کے ہر گوشہ پر آباد ہیں اور ہر طبقہ کے انسان اسلام میں داخل ہیں گو پہلی سی شان و شوکت نہیں رہی مگر پھر بھی ایک دو آزاد حکومتیں بھی مسلمان ہونے سے کا دم بھرتی ہیں لیکن دیکھا جاتا ہے کہ اکثر مسلمانوں کے دل اندر ہی اندر خوف - بیٹھے جاتے ہیں کہ اب اسلام کا کیا حال ہوگا۔ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان بشرطیکہ یورپ کی طاقت اور اس کی روزانہ بڑھنے والی رو کا مطالعہ کر چکے ہوں اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا مسیحیت کی رو میں نہ بہنا اور اپنی حیثیت کو قائم رکھنا ناممکن ہے۔بہت سے احمق یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ایک سو سال کے اندر اسلام دنیا کے پردہ سے مٹ جائے گا اور واقعہ میں جس طرح اس زمانہ میں اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہر ایک مذہب اسلام کو اپنا شکار خیال کر رہا ہے وہ ظاہر بین انسانوں کو گھبرا دینے کے لئے کافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ گروہ جو زمانہ کی حالت سے واقف ہے اس وقت سخت مایوسی کی حالت میں ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے کسی جد و جہد کو بھی مذبوحی حرکات سے زیادہ خیال نہیں کرتا۔یہ تو موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمانوں کا حال ہے جو باوجود کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی کے اس حد تک مایوس ہوچکے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہیں کہ آپ تن تنہا دنیا کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی اس یقین سے معمور تھے کہ کل دنیا پر میں غالب آ جاؤں الله