سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 312
سيرة النبي علي 312 جلد 1 صلى الله جنگ احزاب اور رسول کریم میہ کی سیرت حضرت خلیفة المسح الثاني لمصلح الموعود نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد قادیان میں پہلا خطبہ جمعہ دیتے ہوئے 20 مارچ 1914 ء کو فرمایا:۔مومنوں کی حالت احزاب کے موقع پر بڑی خطر ناک تھی۔وہ کئی کئی دن فاقہ میں گزار دیتے تھے اور باوجود فاقہ کشی کے ان کو دشمن سے لڑنا پڑتا تھا۔حدیثوں میں آیا ہے کہ ایک رات جبکہ بہت سخت سردی تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ہے جو دشمن کی خبر لاوے؟ تو اُس وقت کسی کو جرات نہ ہوسکی کہ نکل کر دشمن کی خبر لاوے۔اُس وقت کپڑوں کی بھی مسلمانوں کو تنگی تھی۔سارے یہی سمجھتے تھے کہ کسی کا نام تو لیا نہیں اس لئے سوائے ایک کے اور کوئی نہ بولا۔دوبارہ حضور ﷺ نے کہا کوئی ہے جو دشمن کی خبر لاوے؟ تب پھر وہی آدمی بولا۔پھر سہ بارہ فرمانے پر بھی وہی آدمی بولا۔آپ نے اسے فرمایا جاؤ جا کر دیکھ آؤ کہ دشمن کی کیا حالت ہے۔وہ گیا تو اس نے دیکھا کہ میدان خالی پڑا ہے اور وہاں کوئی فرد بشر نہیں ہے۔ان کے بھاگنے کا عجیب معاملہ ہوا۔اُسی دن ایسی سخت ہوا چلی کہ ایک سردار کی آگ بجھ گئی۔آگ بجھنے کو عرب لوگ برا سمجھتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ جس کی آگ بجھ گئی وہ گویا ہار گیا۔وہ بھاگا تو اس کے ساتھ والوں نے سمجھا کہ معلوم نہیں کیا آفت پڑی ہے کہ یہ بھاگا ہے وہ بھی بھاگ گئے۔اسی طرح تمام لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ابوسفیان ایسا گھبرایا کہ اسے اونٹ کی رسی کھولنی یاد نہ رہی اور اس پر سوار ہو گیا۔اور تمام لوگ راتوں رات بھاگ گئے 1۔یہ اس وقت کے متعلق پیشگوئی تھی۔