سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 293

سيرة النبي علي نبی میں بھی نہیں ملتی۔293 جلد 1 کسی کو گالی دینے یا برا کہنے سے اس انسان کا تو کچھ سخت کلامی سے پر ہیز نہیں بگڑتا لیکن پھر بھی انسان بالطبع اپنے دشمن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور ابتدائے عالم سے یہ مرض بنی نوع انسان میں چلی آئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گالی دینا ایک لغو کام ہے۔سخت کلامی کرنا ایک فضول حرکت ہے مگر اس کے لغو اور فضول ہونے کے باوجود گالی دینے والے گالیاں دیتے ہیں اور سخت کلامی کرنے والے سخت کلامی کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کو جب غصہ یا جوش آئے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اظہار کرے اور بہت دفعہ جب اس کے غصہ کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور جوش سے اس کی عقل ماری جاتی ہے تو وہ عام الفاظ میں اپنے غصہ کا اظہار نہیں کر سکتا اور جب دیکھتا ہے کہ الفاظ میں میرے غصہ کا اظہار نہیں ہو سکتا تو پھر ایسے الفاظ بولتا ہے کہ جو گو اس غصہ کے اظہار کرنے والے نہ ہوں لیکن ان سے یہ ثابت ہو کہ اس شخص کو سخت طیش ہے۔چنانچہ اس لیے سخت طیش میں تمام برائیوں کو انسان اپنے دشمن یا دکھ دینے والے کی طرف منسوب کرتا ہے حالانکہ وہ سب برائیاں اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتیں لیکن اصل منشا گالی سے کمال طیش کا اظہار ہوتا ہے۔گویا گالی دینا بھی ایک قسم کا مجاز ہوتا ہے جس کے ذریعہ انتہاء غضب کا اظہار کیا جاتا ہے۔جو لوگ نہایت غصیلے ہوتے ہیں اور ذرا ذراسی بات پر ان کا نفس جوش میں آجاتا ہے وہ گالیاں بھی زیادہ دیتے ہیں۔اور جو لوگ جس قدر اپنے نفس پر قابو ر کھتے ہیں اُسی قدر گالیوں سے بچتے ہیں کیونکہ ان کو اس قدر غصہ نہیں آتا کہ جس کو وہ عام الفاظ میں ادا نہ کر سکیں۔اور اگر آئے بھی تب بھی وہ اپنے نفس کو جھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ گالیاں در حقیقت جھوٹ ہوتی ہیں کیونکہ بہت سی باتیں انہیں ایسی کہی جاتی ہیں جو خلاف واقعہ ہوتی ہیں۔مثلاً بعض لوگ طیش میں آکر اپنے مخالف کو حرامزادہ کہہ دیتے ہیں حالانکہ وہ اس گندے الزام سے بالکل پاک ہوتا