سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 288
سيرة النبي علي 288 جلد 1 کے کلمات کے دہرانے سے عاجز تھے کہ کہا جائے کہ آپ نے اس بات سے بھی انکار کیا۔بلکہ اصل بات یہی ہے کہ آپ نے فرشتہ کو دیکھتے ہی خوب سمجھ لیا تھا کہ یہ کس غرض کے لیے آیا ہے کیونکہ قبل از وقت آپ کو رویائے صالحہ کے ذریعہ اس کام کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔اور پھر ایک علیحدہ جگہ میں یک لخت ایک شخص کا نمودار ہونا صاف ظاہر کرتا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔پس آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے اور مجھے کوئی کام سپرد کرنے آیا ہے اور آپ نے خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف نگاہ کر کے اپنی جبینِ نیاز خدا تعالیٰ کے آگے جھکا دی اور عرض کیا کہ جو کچھ مجھے پڑھایا جانے لگا ہے میں تو اس لائق نہیں اور یہ جو کچھ آپ نے فرمایا بالکل درست اور بجا تھا۔اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہی کلمہ کہنا بجا تھا اور آپ نے اس کے فرشتہ کو یہی جواب دیا کہ اس بادشاہ کی خدمت کے میں کہاں لائق تھا۔شاید کوئی شخص کہے کہ یہ تو جھوٹ تھا آپ تو لائق تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض نادانی کے باعث ہے۔جو لوگ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں اُسی قدر اُس سے خائف ہوتے ہیں اور اس کے جلال سے ڈرتے ہیں۔بے شک رسول کریم ﷺ سب سے زیادہ اس کام کے لائق تھے۔لیکن ان کا دل سب انسانوں سے زیادہ خدا تعالیٰ کے خوف سے پُر تھا۔پس انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے ہوئے عذر کیا کہ میں تو اس کام کے لائق نہیں۔اگر آپ اپنے آپ کو سب سے لائق سمجھتے ہوئے ایسا کہتے تب بے شک آپ پر الزام آ سکتا تھا۔بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے جبروت اور جلال پر نظر کرتے ہوئے واقعہ میں اپنے آپ کو اس کی امانت کے اٹھانے کے قابل خیال نہ کرتے تھے اور یہ بات آپ کے درجہ کی بلندی پر دلالت کرتی ہے کہ آپ باوجود عظیم الشان طاقتوں کے مالک ہونے کے خدا تعالیٰ کے جلال پر ایسے فدا تھے کہ آپ نے اپنے نفس کی خوبیوں کو کبھی دیکھا ہی نہیں اور اسی کے جلال کے مطالعہ میں لگے رہے۔کیا اس سے