سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 284
سيرة النبي علي 6☑ 284 جلد 1 شروع شروع میں رسول کریم ﷺ کو سچی خوا ہیں آنی شروع ہوئی تھیں۔آپ جو خواب دیکھتے وہ اپنے وقت پر اس طرح ظاہراً پوری ہوتی جیسے پو پھوٹتی ہے۔اس کے بعد آپ کے دل میں علیحدگی کی محبت ڈالی گئی پس آپ غار حرا میں جا کر علیحدہ بیٹھا کرتے تھے اور کچھ راتیں رہ کر وہاں عبادت کیا کرتے تھے ایک خدا کی۔( کیونکہ نبوت سے پہلے بھی آپ نے کبھی شرک نہیں کیا ) اور پھر گھر کی طرف واپس تشریف لاتے تھے۔اور پھر اس کام کے لیے کھانا وغیرہ لے جاتے پھر واپس تشریف لاتے اور اتنی ہی راتوں کے لیے کچھ کھانا لے جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاس حق آ گیا ( یعنی وحی نازل ہوئی ) اور آپ اُس وقت غار حرا میں ہی تھے۔آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ پڑھ ! آپ نے جواباً فرمایا کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔آپ فرماتے تھے کہ اس پر فرشتہ نے مجھے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس قدر بھینچا کہ طاقتِ برداشت نہ رہی۔پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ ! میں نے کہا کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔اس پر اس نے پھر مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹا کر زور سے بھینچا حتی کہ طاقت برداشت نہ رہی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ ! یہ آیات لے کر (یعنی یاد کر کے ) رسول کریم ﷺ واپس تشریف لے آئے اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔وہاں سے آ کر آپ سیدھے حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھاؤ کپڑا اوڑھاؤ! اس پر آپ کے اوپر کپڑا ڈال دیا گیا اور آپ لیٹے رہے یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔پھر حضرت خدیجہ کو تمام قصہ سنایا اور فرمایا کہ میں تو اپنی جان پر ڈرتا ہوں (یعنی مجھے خوف ہے کہ مجھ سے کیا معاملہ ہونے لگا ہے ) اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ ہر گز نہیں خدا کی قسم! ہر گز نہیں ! ( یعنی ڈر درست نہیں ) خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں اُن پر عامل ہے اور مہمان کی اچھی طرح سے خاطر کرتا ہے اور کچی مصیبتوں میں لوگوں کی ย