سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 280
سيرة النبي ع 280 جلد 1 سے خالی تو مل سکتے ہیں لیکن منکسر المزاج امراء بہت ہی کم اور شاذ و نادر ہی ملیں لیکن رسول کریم ﷺ ایک بادشاہ ہو کر جس منکسر المزاجی سے رہتے تھے وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔عرب کی سی قوم کا بادشاہ لاکھوں انسانوں کی جان کا مالک بڑوں اور چھوٹوں کے سامنے اس انکسار سے کام لیتا ہوا نظر آتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔دنیا کے بادشاہوں اور امراء کی زندگی کو دیکھو اور ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی اپنے سے ادنی آدمی کو سلام کہنا تو در کنار اس کے سلام کا جواب دینا بھی ان پر دو بھر ہوتا ہے۔اول تو بہت سے ہوں گے جو معمولی آدمی کے سلام پر سر تک بھی نہ ہلائیں گے تو بعض ایسے ملیں گے جو صرف سر ہلا دینا کافی سمجھیں گے۔ان سے بھی کم وہ ہوں گے جو سلام کا جواب دے دیں گے۔اور جو ابتدا میں سلام کریں وہ تو بہت ہی کم ملیں گے کیونکہ جن کی طبیعت میں تکبر نہ ہو وہ اس بات کو پسند نہ کریں گے کہ کوئی غریب آدمی ان کو سلام کہے تو وہ اس کے سلام کا جواب نہ دیں لیکن ابتداء ایک غریب آدمی کو سلام کہنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھیں گے۔لیکن رسول کریم علی صلى الله کی زندگی کے حالات پڑھ کر دیکھو کہ آپ ہمیشہ سلام کہنے میں سبقت کرتے تھے اور کبھی اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے کہ کوئی غریب آدمی آپ کو خود بڑھ کر سلام کرے بلکہ آپ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپ ہی پہلے سلام کہیں۔اس کے متعلق میں اس جگہ یک ایسے شخص کی گواہی پیش کرتا ہوں جس کو آپ کی مدینہ کی زندگی میں برابر دس سال آپ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔میری مراد حضرت انسؓ سے ہے جن کو رسول کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لانے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپ کی وفات تک برابر آپ کی خدمت میں رہے۔ان کی نسبت امام بخاری روایت کرتے ہیں عَنْ أَنَسِ بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَان فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ 107 یعنی حضرت انس ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپ نے ان کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ