سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 279

سيرة النبي عل 279 جلد 1 مل جائے۔میرا یہ ایمان ہے کہ آپ اپنی تمام عادات اور تمام حرکات میں بے نظیر تھے اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں گل انبیاء اور صلحاء پر فضیلت رکھتے تھے۔پس میں اگر کسی جگہ دوسرے امراء سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں تو صرف یہ دکھانے کے لیے کہ بادشا ہوں اور امراء میں بھی نیک نمو نے تو موجود ہیں لیکن جس طرح ہر رنگ اور ہر پہلو میں آپ کامل تھے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔اور دوسرے یہ بتانے کے لیے کہ آپ کو صرف نیک بختوں میں اور صلحاء میں شامل کرنا درست نہیں ہوسکتا بلکہ کسی ایک خلق میں بھی بہتر سے بہتر نمونہ جو مل سکتا ہے اس سے بھی آپ کا نمونہ بڑھ کر تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کوئی نیک بخت بادشاہ نہ تھے بلکہ نبی تھے اور نبیوں کے بھی سردار تھے۔اور میں ان لوگوں کی کوشش کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو آ کی لائف میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے افعال کو چند اور بادشاہوں سے مشابہ کر کے دکھاتے ہیں اور اس طرح گویا آپ پر سے وہ اعتراض مٹانا چاہتے ہیں جو آپ کے دشمنوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک اچھے بادشاہ تھے لیکن ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ آپ ایک نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے۔پس جب تک آپ کے اخلاق کو دوسرے انسانوں کے اخلاق سے بہتر اور اعلیٰ نہ ثابت کیا جائے ہمارا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے اور صرف بعض شریف بادشاہوں سے آپ کی مماثلت ثابت کر دینے سے وہ مطلب ہرگز پورا نہیں ہوتا جس کے پورا کرنے کے لیے ہم قلم اٹھاتے ہیں۔پس میرا آپ کے مقابلہ میں دیگر امراء کی امثلہ پیش کرنا یا ان کی زندگی کی طرف متوجہ کرنا صرف اس غرض کے لیے ہوتا ہے کہ تا بتاؤں کہ اچھے سے اچھے نمونہ کو بھی آپ کے سامنے لاؤ کبھی وہ آپ کے آگے چمک نہیں سکتا بلکہ آپ کے سامنے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نصف النہار کے سورج کے مقابلہ میں شب چراغ۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔میں اس وقت یہ بیان کر رہا تھا کہ گو بعض امراء تکبر