سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 278

سيرة النبي علي 278 جلد 1 کہ اصحاب الصفہ جن کو نہ کھانے کو روٹی ، نہ پہنے کو کپڑا، نہ رہنے کو مکان میسر تھا اُن کو اپنے گھر پر بلاتا ہے اور ایک نہیں، دو نہیں، ایک جماعت کی جماعت کو دودھ کا پیالہ دیتا ہے اور سب کو باری باری پلا کر سب کا بچا ہوا، کم سے کم نصف درجن مونہوں سے گزرا ہوا دودھ سب سے آخر میں اَلْحَمْدُ لِلهِ کہتا ہوا بِسْمِ اللہ کہہ کر پی جاتا ہے اور اس کے چہرہ پر بجائے نفرت کے آثار ظاہر ہونے کے خوشی اور فرحت اور شکر و امتنان کی علامات ہویدا ہوتی ہیں۔بے شک دنیا میں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں لیکن اس شان و شوکت کا مالک ہو کر جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھی پھر اس قدر تکبر سے بعد کی مثال کوئی پیش تو کرے۔لیکن خوب یاد رکھو کہ ایسی مثال پیش کرنے پر کوئی شخص قادر نہیں ہوسکتا۔سوائے اس مثال کے جو اسی پاک انسان کے نقش قدم پر چل کر اسی میں گم ہو۔تکبر کے متعلق دو مثالیں بیان کرنے کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ آپ کے اندر تکبر نہ تھا بلکہ اس کے علاوہ آپ کی طبیعت میں حد درجہ کا انکسار بھی تھا اور آپ ہمیشہ دوسرے کی تعظیم کرنے کے لیے تیار رہتے تھے اور اپنا رویہ ایسا رکھتے تھے جس سے دوسرے لوگوں کا ادب ظاہر ہو اور یہ وہ بات ہے کہ جس سے عام طور پر لوگ خالی ہوتے ہیں۔خصوصاً امراء تو اس سے بالکل خالی ہی نظر آتے ہیں۔ایسے تو شاید بہت سے امراء مل جائیں جو ایک حد تک تکبر سے بچے ہوئے ہوں لیکن ایسے امراء جو تکبر سے محفوظ ہونے کے علاوہ منکسر المز اج بھی ہوں شاذ و نادر ہی ملتے ہیں۔اور میرا یہ کہنا کہ شاذ و نادر منکسر المزاج امرا مل سکتے ہیں اس صلى الله کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ایسے امراء بھی ہیں جو اپنے انکسار میں رسول اللہ علیہ کا نمونہ ہیں۔کیونکہ رسول کریم ﷺ کا نمونہ تو انبیاء میں بھی نہیں مل سکتا چہ جائیکہ عام امراء میں انکسار کا لفظ اردو محاورہ کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ورنہ عربی زبان میں انکسار ان انکسار معنوں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کی بجائے ” تواضع“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔