سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 277

سيرة النبي علي 277 جلد 1 ایک دوسرے کا جوٹھا پینے سے ایک دوسرے کی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے حالانکہ اگر کوئی ایسی بیماری معلوم ہو تو اور بات ہے ورنہ رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں کہ سُورُ الْمُؤْمِن شِفَاء 106 مومن کا جوٹھا استعمال کرنے میں بیماری سے شفاء ہوتی ہے۔پھر مسلمان کہلانے والوں کا کیا حق ہے کہ اس فتویٰ کے ہوتے ہوئے اپنے تکبر کو پورا کرنے کے لیے اس تار عنکبوت عذر کے پیچھے پناہ لیں۔غرض اس آزادی کے زمانہ میں بھی بادشاہ تو الگ رہے عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے کہ اپنے سے نیچے درجہ کے آدمی کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کریں اور خواہ دنیاوی حیثیت میں ان سے ادنی درجہ کا آدمی کس قدر ہی صاف اور نظیف کیوں نہ ہو اور ہر قسم کی میلوں اور گندوں سے کتنا ہی پاک کیوں نہ ہو اس کے جو ٹھے کھانے یا پینے کو کبھی استعمال نہیں کرتے اور اس کو برا مناتے ہیں اور اس کو اپنی ہتک خیال کرتے ہیں اور پھر امارت ظاہری الگ رہی ، قومیتوں کے لحاظ سے بھی ایسے درجے مقرر کیے گئے ہیں کہ ایک ادنیٰ قوم کے شخص کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کرنا اعلیٰ قوم کے لوگ عار خیال کرتے ہیں۔خود ہمارے گھر میں ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ ایک سیدانی بغرض سوال آئی۔باتیں کرتے کرتے اس نے پانی مانگا۔ایک عورت اس کو پانی دینے کے لیے اٹھی اور جو برتن گھڑوں کے پاس پانی پینے کے لیے رکھا تھا اس میں اس نے اسے پانی دیا۔وہ سیدانی بھی سامنے بیٹھی تھی اس بات کو دیکھ کر آگ بگولا ہو گئی اور بولی کہ شرم نہیں آتی ! میں سیدانی ہوں اور تو امتیوں کے جو ٹھے برتن میں پانی دیتی ہے۔نئے برتن میں مجھے پانی پلانا چاہیے تھا۔غرض صرف سادات میں سے ہونے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ ہمارے ہاں سوال کرنے آئی تھی اور محتاج تھی اس نے اس قدر تکبر کا اظہار کیا کہ دوسرے آدمی کا مستعمل برتن جو سید نہ ہو اُس کے سامنے پیش کرنا گویا اس کی ہتک تھی۔جب مستعمل لیکن صاف کردہ برتن سے اس قدر نفرت تھی تو جوٹھا پانی تو پھر نہایت ناپاک شے سمجھی جاتی ہو گی لیکن اس سیدوں کے باپ بلکہ انبیاء کے سید کو دیکھو