سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 274
سيرة النبي علي 274 جلد 1 قَالَ اقْعُدْ فَاشْرَبُ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ فَقَالَ اشْرَبُ فَشَرِبْتُ فَمَازَالَ يَقُوْلُ اشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ فَأَرِنِيْ فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ 105 صلى ترجمہ۔اُس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں کہ میں بھوک کے مارے زمین پر منہ کے بل لیٹ جایا کرتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا (یعنی رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اُس وقت صحابہ زیادہ تر اپنے اوقات دین کے سیکھنے میں ہی خرچ کرتے تھے اور کم وقت اپنی روزی کے کمانے میں لگاتے تھے اس لیے دنیاوی مال آپ کے پاس بہت کم ہوتا تھا اور حضرت ابو ہریرۃ تو کوئی کام کیا ہی نہ کرتے تھے ، ہر وقت مسجد میں اسی انتظار میں بیٹھے رہا کرتے تھے کہ کب رسول کریم علی نکلیں تو میں آپ کے ساتھ ہو جاؤں اور جو کچھ آپ کے دہن مبارک سے نکلے اُس کو یاد کرلوں اور چونکہ سوال سے بچتے تھے کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا لیکن ہر حال میں شاکر تھے اور آستانہ مبارک کو نہ چھوڑتے تھے ) ایک دن ایسے ہوا کہ میں اُس راستہ پر بیٹھ گیا جس پر سے صحابہ گزر کر اپنے کاروبار کے لیے جاتے تھے۔اتنے میں حضرت ابو بکر گزرے۔پس میں نے اُن سے قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور میں نے یہ آیت ان سے اس لیے نہ پوچھی تھی کہ وہ مجھے اس کے معنی بتا ئیں بلکہ اصل غرض میری یہ تھی کہ شاید ان کی توجہ میری طرف ہو اور میرا پیٹ بھر دیں لیکن انہوں نے معنی بتائے اور آگے چل دیئے، مجھے کچھ کھلایا نہیں۔ان کے بعد حضرت عمر گزرے۔میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور وہ آیت بھی مجھ کو آتی تھی۔میری اصل غرض یہی تھی کہ وہ مجھے کچھ کھلا ئیں مگر وہ بھی اسی طرح گزر گئے اور مجھے کچھ نہ کھلایا۔پھر وہاں سے ابوالقاسم م (یعنی آنحضرت ﷺ فِدَاهُ نَفْسِی ) گزرے آپ نے جو نہی مجھے دیکھا مسکرا دیے اور جو کچھ میرے جی میں تھا اور جو میرے چہرہ سے عیاں تھا (یعنی بھوک کے آثار ) اُس کو صلى الله