سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 267
سيرة النبي علي 267 جلد 1 تک ہمارے اس دعوے کی تصدیق کر رہا ہے لیکن ہم اسے واضح کرنے کے لیے ایک مثال بھی دے دیتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے محسن کے احسان کا کس قدر خیال رہتا تھا اور کس طرح اسے یا درکھتے تھے۔بدر کی جنگ کے نام سے کون سا مسلمان ناواقف ہوگا یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور یہی وہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعوی کے ساتھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لیے مٹادیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مئے کہ آج ان کا نام لیوا کوئی باقی نہیں اور اگر کوئی ہے تو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا بجائے فخر کے عار خیال کرتا ہے۔غرضیکہ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی تھی اور بہت سے کفار قید بھی ہوئے تھے۔وہ لوگ جو گھر سے اس ارادہ سے نکلے تھے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے اتباع کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کر دیں گے اور جن کے دل میں رحم کا خیال تک بھی نہ تھا ان سے جس قدر بھی سختی کی جاتی اور جو سزائیں بھی ان کے لیے تجویز کی جاتیں بالکل روا اور مناسب تھیں۔لیکن ان کی شرارت کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ نے ان سے جو نرم سلوک کیا یعنی صرف ایک خفیف سا تاوان لے کر چھوڑ دیا وہ اپنی آپ ہی نظیر ہے۔مگر اس نرم سلوک پر بھی ابھی آپ کے دل میں یہ تڑپ باقی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کوئی اور معقول وجہ پیدا ہو جائے تو میں ان کو پہلا تاوان لئے کے چھوڑ دوں۔چنانچہ اس موقع پر آپ نے حضرت جبیر سے جو گفتگو فرمائی وہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا دل اسی طرف مائل تھا کہ کوئی معقول عذر ہو تو میں ان لوگوں کو یونہی چھوڑ دوں۔ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پولیٹیکل نقص تھے جن کی وجہ سے آپ بلا کافی وجو ہات کے یونہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔اس گفتگو سے جہاں مذکورہ بالا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ