سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 266
سيرة النبي علي 266 جلد 1 استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔(3) تیسرے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔اور یہ ایک خاص بات ہے کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے اور دوسرے دن نہ کرے صلى الله تو اس کا ایسا کرنا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔لیکن آنحضرت کہ اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فرماتے کہ ایک دن ایک عبادت کر کے دوسرے دن چھوڑ دیں بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کرتے تو دوسرے دن پھر کرتے تا کہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو۔اور یہ بات آپ کے استقلال پر خاص روشنی ڈالتی ہے۔احسان کی قدر دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اس بات کے تو طالب رہتے ہیں کہ دوسرے ان پر احسان کریں لیکن اس بات کا اُن کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ جن لوگوں نے ان پر احسان کیا ہے ان کے احسانات کو یاد رکھ کر ان کا بدلہ بھی دیں۔ایک دو احسانات کا یاد رکھنا تو الگ رہا والدین جن کے احسانات کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا ان کے احسانات کو بھی بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی محبت سے مجبور ہو کر یا اپنا فرض خیال کر کے کیا۔ہمیں اب کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ ان کی الله خبر گیری کرتے پھریں۔لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کا حال دنیا سے بالکل مختلف تھا۔آپ پر جب کوئی شخص احسان کرتا تو آپ اسے ہمیشہ یاد رکھتے تھے اور کبھی فراموش نہ کرتے تھے۔اور ہمیشہ آپ کی کوشش رہتی تھی کہ جس نے آپ پر کبھی کوئی احسان کیا ہوا سے اس کے احسان سے بڑھ کر بدلہ دیں۔یوں تو آپ کا اپنے رشتہ داروں، دوستوں، مریدوں ، خادموں اور ہم وطنوں سے سلوک شروع سے آخر