سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 260

سيرة النبي علي 260 جلد 1 استقلال ایک طرف تو اپنے صاحب کے کاموں کی سنجیدگی اور حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے اور دوسری طرف اس ایک صفت کی وجہ سے انسان کے دوسرے اخلاق حسنہ اور قوائے مفیدہ کے ظہور اور نفع میں بھی خاص ترقی ہوتی ہے اس لیے اس مختصر سیرت میں صلى الله میں آنحضرت ﷺ کے استقلال پر بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔یوں تو اگر غور کیا جائے تو جو کچھ میں اب تک لکھ چکا ہوں اس کا ہر ایک باب بلکہ ہر ایک ہیڈنگ آنحضرت علی کے استقلال کا شاہد ہے اور کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں مگر سیرت کی تکمیل چاہتی ہے کہ اس کے لیے الگ ہیڈنگ بھی ضرور قائم کی جاوے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی پر اگر ہم اجماعی نظر ڈالیں تو ہمیں رسول کریم ہے استقلال کی ایک مجسم تصویر نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ استقلال کو بھی اس الله نمونہ استقلال پر فخر ہے جو رسول کریم ﷺ نے دکھایا تھا۔اس حالت کو دیکھو جس میں آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اور پھر اس استقلال کو دیکھو جس سے اس کام کو نباہتے ہیں۔آپ کی حالت نہ تو ایسی امیرا نہ تھی کہ دنیا کی بالکل احتیاج ہی نہ تھی اور گویا آپ دنیا کی فکروں سے ایسے آزاد تھے کہ اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ہی آپ ایسے فقیر اور محتاج تھے کہ آرام و آسائش کی زندگی کبھی بسر ہی نہ کی تھی اس لیے دنیا کا چھوڑنا آپ پر کچھ شاق نہ تھا مگر پھر بھی اس اوسط حالت کے باوجود جس میں آپ تھے اور جو عام طور پر بنی نوع انسان کو دنیا میں مشغول رکھتی ہے اور باوجود بیوی بچوں کی موجودگی اور ان کی فکر کے جب آپ غار حرا میں جا کر عبادت الہی میں مشغول ہوئے تو آپ کے پائے ثبات کو مشرکین کی جنسی اور ٹھٹھے نے ذرا بھی متزلزل نہ کیا۔اور آخر اُس وقت اس غار کو چھوڑا جب آسمان سے حکم آیا کہ بس اب خلوت کا زمانہ ختم ہوا اور کام کا زمانہ آ گیا، جا! اور ہماری مخلوق کو راہ راست پر لا يَايُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرُ !