سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 259

سيرة النبي علي 259 جلد 1 صبر اور شے ہے۔رحم چاہتا ہے کہ اس بچہ کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا دل بھی دُکھے اور دل کے درد کا اظہار آنکھوں کے آنسوؤں سے ہوتا ہے۔اور صبر یہ ہے کہ ہم اس بات پر راضی ہو جائیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو اسے قبول کریں اور اس پر کرب واضطرار کا اظہار نہ کریں۔اور اللہ تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کے لیے تو رحم کی سخت ضرورت ہے۔پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دکھوں میں رحم اور شفقت کی عادت ڈالے تو پھر اس بات کا امیدوار ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی تکالیف میں اس پر رحم کرے۔غرضیکہ ایک طرف اپنے نواسہ کی وفات کا حال سن کر جو آپ کے بڑھاپے کی عمر کا ثمرہ تھا اور خصوصاً جب کہ آپ کے کوئی نرینہ اولا د موجود نہ تھی صبر کرنا اور اپنی لڑکی کو صبر کی تلقین کرنا اور دوسری طرف اس بچہ کو دکھ میں دیکھ کر آپ کے آنسوؤں کا جاری ہو جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک قضا پر صابر تھے اور یہ کہ آپ کا صبر سخت دلی ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ) کا موجب نہ تھا بلکہ آپ کا دل رحم و شفقت سے پُر تھا۔استقلال قابل اور ناقابل انسان کی پرکھ میں استقلال بہت مدد دیتا ہے کیونکہ استقلال سے انسان کے بہت سے پوشیدہ در پوشیدہ اخلاق اور قوتوں کا پتہ لگ جاتا ہے اور مستقل اور غیر مستقل انسان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ایک ایسا شخص جو بیسیوں نیک اخلاق کا جامع ہو لیکن اس کے اندر استقلال نہ ہو اس کے اخلاق حسنہ نہ تو اس کے نفس کی خوبی کو ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو ان سے کوئی معتد بہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیونکہ اگر اس میں استقلال نہیں اور وہ اپنے کاموں میں دوام اختیار نہیں کرتا تو اول تو یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے نیک اخلاق ممکن ہے کہ بناوٹ کا نتیجہ ہوں۔اور دوسرے ایک نیک کام کو شروع کر کے جب وہ درمیان میں ہی چھوڑ دے گا تو اس کا کوئی خاص فائدہ بنی نوع انسان کو نہ پہنچے گا۔بلکہ خود اس شخص کا وہ وقت جو اس نے اس ادھورے کام پر خرچ کیا تھا ضائع سمجھا جائے گا۔پس