سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 246
سيرة النبي 246 جلد 1 سلوک کا دنیا میں ایسا شہر ہ تھا کہ بادیہ نشین عرب بھی اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہو گا۔ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپ پر اس قدر زور ڈال رہے تھے اور باتوں سے ہی آپ سے کچھ وصول نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ جب ناامید ہو گئے تو آپ کو پکڑ کر اصرار کرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔اور آپ ان سے ہٹتے ہٹتے راستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آپ کی چادر کانٹے دار درختوں میں جا پھنسی۔اور اُس وقت آپ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملامت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں ضرور تم کو دے دیتا حتی کہ سامنے کھڑے ہوئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا اور ہرگز بخل نہ کرتا۔نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھا تا۔دنیا کا کوئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتا۔وہ جو اپنی عزت اور اپنی بڑائی کے طلب گار ہوتے ہیں وہ اس قدر تحمل نہیں کر سکتے۔آنحضرت علی کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقع پر جب آپ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا تھا مذکورہ بالا جواب دینا اپنی نظیر آپ ہی ہے اور دنیا کا کوئی بادشاہ ، کوئی حاکم ، کوئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔پھر آپ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔فرماتے ہیں کہ اگر ان درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں تمہیں دے دیتا اور تم مجھے بخیل ، جھوٹا اور بز دل نہ پاتے۔ایک موٹی نظر والے انسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن دانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپ نے فرمائے بالکل موقع کے مطابق تھے اور ان سے بہتر لفظ اور ہو ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سے متعلق ہے۔پس آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو تم مجھے بخیل نہ پاتے۔یعنی تمہیں معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا۔اور جھوٹا بھی نہ پاتے۔یہ اس لیے فرمایا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ