سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 11

سيرة النبي علي 11 جلد 1 الله زمانہ کی حالت اور رسول کریم ﷺ کی بعثت د صلى الله آنحضرت معہ کی صفات حسنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تفخیذ الاذہان مئی، جون 1909ء میں تحریر فرماتے ہیں:۔آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت لوگ مانتے تھے کہ دنیا میں فساد بڑی کثرت سے پھیل گیا ہے اور لڑائی دنگوں نے دنیا سے امن اٹھا دیا ہے۔خونریزی سے زمین سرخ ہو رہی ہے، فسق و فجور کی کوئی حد نہیں رہی ، چوری اور ڈاکہ زنی کی کثرت ہوگئی ہے، شرک نے ہر ایک کے دل میں جگہ لے لی ہے، زمانہ کی حالت بہت نازک ہو رہی ہے اور یہ ایک ایسا وقت ہے کہ اس وقت ضرور ضرور ایک آدمی خدا کی طرف سے مبعوث ہونا چاہئے جو گمراہوں کو راستہ دکھائے ، اندھوں کو نور بخشے ، ظلمت کو دور کرے اور تکبر کے شیشہ کو چکنا چور کرے۔پھر یہ بھی مانتے تھے کہ آپ کی تمام زندگی ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے۔بچپن سے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رہی ہے، لڑکپن سے دنیا سے نفرت رہی ہے، عہد طفولیت سے سچائی کا خیال رہا ہے۔اس بات کا بھی اقرار تھا کہ آپ کو جھوٹ سے سخت نفرت ہے، آپ کی زبان پر سچ کے سوا کبھی کچھ نہیں آیا ، بنی نوع انسان کی ہمدردی آپ کا شیوا ہے، بیواؤں کی خبر گیری آپ کا طریق ہے، مسافروں کی مدد کرنا آپ کی عادت میں داخل ہے، قیموں کی خبر گیری آپ اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر باوجود اس کے وہی بات کہے چلے گئے کہ جھوٹا ہے جھوٹا ہے۔کم بختوں نے اتنا بھی تو نہ سمجھا کہ جو انسان پر جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا پر کیوں افترا کرے گا۔جو گمراہوں اور مسافروں کی مدد کرتا ہے وہ ہدایت یافتوں کو کیوں راستہ سے دور ڈالے گا۔جس نے بیواؤں کی دستگیری