سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 10
سيرة النبي علي 10 10 وو بہترین روحانی سوداگر صلى الله حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے 28 دسمبر 1908ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں جو خطاب فرمایا اس کا عنوان تھا ” ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس خطاب میں آپ نے جماعت کو خدا سے ایک سودا کرنے کی تلقین فرمائی اور اس ضمن الله میں رسول کریم ﷺ کو بہترین روحانی سوداگر کے طور پر پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ آدم سے لے کر ہمارے نبی کریم مکہ تک بے شمار سوداگر ہو گزرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس سوداگری سے فائدہ ہی اٹھایا بلکہ جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور جنس کا سوداگر بنا وہ ان کے سامنے ہلاک کیا گیا اور وہی کامیاب رہے۔ان سوداگروں میں سے سب سے بڑے ہمارے آنحضرت ﷺ تھے۔جب آپ نے اس تجارت کو شروع کیا تو آپ ایک یتیم بچے تھے کوئی آپ کو جانتا تک نہ تھا مگر خدا نے آپ کو در یتیم بنایا اور وہ مرتبہ دیا کہ اس وقت کروڑوں آدمی آپ کے نام پر جان دینے کو تیار ہیں آپ کو وہ چمک عنایت کی گئی کہ سورج کی روشنی ماند پڑ گئی۔آپ کو اس تجارت سے اس قدر فائدہ پہنچا کہ اب تک کہ تیرہ سو برس گزر چکے ہیں آپ کے نام کی عزت کے لئے لوگ کوششیں کرتے ہیں۔چنانچہ آج جو ہم لوگ اس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تو صرف اس لئے کہ اس برگزیدہ نبی کا نام دنیا سے مٹا جاتا ہے اسے پھر روشن کریں پس جبکہ آپ نے اس آیت کے موجب سودا کر کے اس قدر نفع اٹھایا تو ہمیں بھی چاہیے کہ جب کبھی کوئی سودا کریں تو دیکھ لیں کہ آیا ہم سے پہلے آنحضرت ﷺ نے سودا کیا تھا کہ نہیں تا کہ ہم بھی آپ کے قدم بقدم چل کر اسی طرح فائدہ اٹھائیں۔“ الله ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں صفحہ 3) جلد 1