سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 243

سيرة النبي علي 243 جلد 1 لیکن وہ بادشاہ ہر دو جہاں اس کے گستاخانہ کلام کے جواب میں کیا کہتا ہے؟ کیا اسے سزا کا حکم دیتا ہے؟ کہ تا ان نومسلموں پر آپ کا رعب بیٹھ جائے جو نہایت نگران نگاہوں سے صحابہ اور آنحضرت ﷺ کے تعلقات کو اس لیے دیکھ رہے تھے کہ ان سے اندازہ لگا سکیں کہ یہ تعلقات مصنوعی ہیں یا حقیقی ، عارضی ہیں یا مستقل ،سطحی ہیں یا ان کی جڑیں دل کے تمام کونوں میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہیں۔یا وہ میرا پیارا اگر اسے کسی بدنی سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا تو کم سے کم زبانی طور پر ہی اسے سخت تہدید کرتا ہے کہ اگر ایسے الفاظ پھر تمہارے منہ سے نکلے تو تم کو سخت سزا دی جائے گی ؟ نہیں وہ بھی نہیں کرتا۔کیا وہ اسے اپنے سامنے سے دور ہو جانے کا حکم دیتا ہے؟ نہیں! وہ اس سے بھی اجتناب کرتا ہے۔پھر اس مجرم کے لیے وہ کیا سزا تجویز کرتا ہے؟ وہ باوجود صحابہ کی چڑھی ہوئی تیوری کے اور باوجود ان کے ہاتھوں کے بار بار دستہ تلوار کی طرف جانے کے اسے نہایت پر حکمت اور پُر معنی جواب دیتا ہے جس سے بہتر جواب کوئی انسانی دماغ تجویز کر ہی نہیں سکتا۔وہ اسے خود اُسی کے فعل سے ملزم کرتا ہے،خود اُسی کے اقوال سے قائل کرتا ہے، خود اُسی کے اعمال سے شرمندہ کرتا ہے۔وہ کہتا ہے تو یہ کہ لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تو بدبختی کے گڑھے میں گر گیا۔کیونکہ تو نے تو مجھے خدا کا رسول سمجھ کر بیعت کی ہے۔اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں آپ کو خدا کی طرف سے یقین کرتا ہوں اور مجھے اپنا رہنما اور پیشوا قرار دیتا ہے تو ان خیالات کے باوجود اے نادان! جب تو مجھے انصاف سے دور اور عدل سے خالی خیال کرتا ہے تو تجھ سے زیادہ بد بخت اور کون ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے پیچھے لگاتا ہے جو اتباع کے قابل نہیں اور اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کرتا ہے جو جھوٹ بولنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتا۔اور اگر تُو مجھے نبی نہیں خیال کرتا بلکہ جھوٹا خیال کرتا ہے تو پھر بھی تو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کے پھر میرے ساتھ رہتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میں