سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 242
سيرة النبي علي 242 جلد 1 آپ کو کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔آپ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تو بڑی بے برکتی اور بدبختی میں مبتلا ہو گیا۔اللہ اللہ ! کیسے خطر ناک حملہ کا جواب وہ پاک رسول کس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔آنحضرت ﷺ سے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی باتیں برداشت کر سکتے بلکہ حضرت عمر اور خالد بن ولید تو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوار کھینچ کر کھڑے صلى الله ہو جاتے تھے مگر آنحضرت ﷺ ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العہد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالانے پر ایک مؤمن کا فرض ہوتا ہے اور جو ایک ذرا سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپ کے اردگرد کھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہیے۔ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیائی سے آپ سے کہنا کہ حضور ! ذرا عدل مدنظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطرناک فعل تھا۔جس سے ایک طرف تو اُن قوانین کی خلاف ورزی ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔دوسرے ان تمام مواعید پر پانی پھر جاتا تھا جو اس شخص نے آنحضرت علی کے حضور کیے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لیے کرنے پڑتے ہیں۔تیسرے سیاسی لحاظ سے آپ کے رعب کو ایک خطر ناک نقصان پہنچانے والے تھے۔اور چوتھے نومسلموں کے لیے ایک نہایت بد نظیر قائم کرنے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ کے دلوں میں بھری ہوئی تھی۔پس وہ الفاظ جو ذوالخویصرہ کے منہ سے اُس وقت نکلے ایک دنیا وی دربار میں خطر ناک سے خطر ناک سزا کا فتویٰ دلانے کے لیے کافی تھے۔اور اگر زمانہ قدیم کے درباروں میں ایسا انسان قتل کا مستوجب خیال کیا جاتا تو موجودہ دورِ دستوریت میں بھی ایسا آدمی سزا سے محفوظ نہ رہ سکتا۔