سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 241

سيرة النبي علي 241 حضرت علی فرماتے ہیں میں نے پھر کبھی تہجد میں ناغہ نہیں کیا۔جلد 1 طہارۃ النفس - متحمل ہم پہلے حضرت علی کے ایک واقعہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نہایت بردبار تھے صلى الله اور برخلاف بہت سے بادشاہوں کے جو اپنے خلاف بات سن کر یا اپنی مرضی کے نا موافق حرکت دیکھ کر نہایت غصہ اور جوش سے بھر جاتے ہیں اکثر چشم پوشی اور اعراض سے کام لیتے تھے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس میں تحمل کا پہلو غالب ہو۔اب ہم ایک اور ایسا ہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو ایک دوسرے پہلو سے آپ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ کی صفات حسنہ کو اور بھی روشن کر کے ظاہر کرتا ہے۔آنحضرت علی ہوازن پر فتح پا کے واپس آ رہے تھے اور اس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے اُن کی تقسیم کا سوال در پیش تھا۔آپ کا منشا تھا کہ اگر ہوازن تائب ہو کر آ جائیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں لیکن دن پر دن گزرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کوئی وفد طلب گار معافی ہو کر نہ آیا۔بہت دن تک آپ نے تقسیم اموال کے کام کو تعویق میں رکھا لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا کہ اموال تقسیم کر دیے جائیں۔چنانچہ بھرا نہ پہنچ کر آپ نے ان اموال کو تقسیم کرنا شروع کیا۔منافق تو ہمیشہ اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو ہم آپ پر اعتراض کریں۔کوئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخویصرہ التیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہا کہ آپ اس تقسیم میں عدل کو مد نظر رکھیں۔جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آپ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے۔امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابر سے یوں روایت کیا ہے کہ بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيْمَةً بِالْجِعُرَانَةِ إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ اِعْدِلُ قَالَ لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلُ 94 اس اثناء میں کہ آنحضرت ﷺ اموال غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے صلى الله