سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 239
سيرة النبي علي 239 جلد 1 ہے۔حقیقت میں آپ کا اتنا کہہ دینا ایسے ایسے منافعے اندر رکھتا تھا کہ جس کا عشر عشیر بھی کسی اور کی سو بحثوں سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس حدیث سے ہمیں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور اسی جگہ ان کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دینداری کا کس قدر خیال تھا کہ رات کے وقت پھر کر اپنے قریبیوں کا خیال رکھتے تھے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو خود تو نیک ہوتے ہیں ، لوگوں کو بھی نیکی کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ان کے گھر کا حال خراب ہوتا ہے اور ان میں یہ مادہ نہیں ہوتا کہ اپنے گھر کے لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور انہی لوگوں کی نسبت مثل مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔یعنی جس طرح چراغ اپنے آس پاس تمام اشیاء کو روشن کر دیتا ہے لیکن خود اس کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ دوسروں کو تو نصیحت کرتے پھرتے ہیں مگر اپنے گھر کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری روشنی سے ہمارے اپنے گھر کے لوگ کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ کو اس بات کا خیال معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عزیز بھی اس نور سے منور ہوں جس سے وہ دنیا کو روشن کرنا چاہتے تھے اور اس کا آپ تعہد بھی کرتے تھے اور ان کے امتحان و تجربہ میں لگے رہتے تھے۔اور تربیت اعزا ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے جو اگر آپ میں نہ ہوتا تو آپ کے اخلاق میں ایک قیمتی چیز کی کمی رہ جاتی۔دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو اس تعلیم پر کامل یقین تھا جو آپ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور ایک منٹ کے لیے بھی آپ اس پر شک نہیں کرتے تھے اور جیسا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ دنیا کو اتو بنانے کے لیے اور اپنی حکومت جمانے کے لیے آپ نے یہ سب کا رخانہ بنایا تھا ورنہ آپ کو کوئی وحی نہ آتی تھی یہ بات نہ تھی بلکہ آپ کو اپنے رسول اور خدا کے مامور ہونے پر ایسا ملح قلب عطا تھا کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں میں آپ بناوٹ سے کام