سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 235

سيرة النبي عل الله 235 جلد 1 فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ لَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهُبِ إِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ فَلَمَّا قَبَضُنَاهَا قُلْنَا تَغَفَّلُنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِيْنَهُ لَا نُفَلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا قَالَ أَجَلْ وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِيْنِ فَأَرى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا 92 آپ نے فرمایا کہ صلى الله ہم چند آدمی جو اشعری قبیلہ کے تھے نبی کریم علی یا اللہ کے پاس آئے اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔آپ نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے میں نہیں دے سکتا۔ہم نے پھر عرض کیا کہ ہمیں سواری دی جاوے تو آپ نے قسم کھا لی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے۔پھر کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے پس آپ نے حکم دیا کہ ہمیں پانچ اونٹ دیئے جاویں۔پس جب ہم نے وہ اونٹ لے لیے ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے تو آنحضرت ﷺ کو دھوکا دیا ہے اور آپ کو آپ کی قسم یاد نہیں دلائی ہم اس کے بعد کبھی مظفر ومنصور نہ ہوں گے۔اس خوف سے میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے اور اب تو آپ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔فرمایا ہاں اسی طرح ہوا ہے لیکن میں کوئی قسم نہیں کھاتا لیکن جب اس کے سوا کوئی اور بات بہتر دیکھتا ہوں تو وہ بات اختیار کر لیتا ہوں جو بہتر ہو۔صلى الله اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مقصود کیا تھا۔آپ کے کام کسی دنیاوی مصلحت یا ارادہ کے ماتحت نہ ہوتے تھے بلکہ آپ اپنے ہر کام میں یہ بات مدنظر رکھتے تھے کہ جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ واقعہ میں نفع رساں بھی ہے یا نہیں۔اور اگر کبھی معلوم ہو جائے کہ آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے یا اس کے کرنے کا ارادہ کیا ہے جو کسی انسان کے لیے مضر ہو گا یا اسے اس سے تکلیف ہو گی تو آپ فوراً اپنے پہلے حکم کو واپس لے لیتے اور وہی بات کرتے جو بہتر اور نفع رساں ہوتی۔