سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 234
سيرة النبي علي 234 جلد 1 نتیجہ ایک خونریز جنگ ہوئی اور ایک سرسبز و شاداب ملک ہاتھ سے جاتا رہا۔خود ہندوستان میں تقسیم بنگالہ کا فیصلہ ایک کھلی نظیر موجود ہے کہ خود وزرائے انگلستان قبول کرتے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہوا لیکن ڈرتے تھے کہ اسے تبدیل کر دیں گے تو ملک میں حکومت کی بے رعمی ہو گی۔چنانچہ جب تک شہنشاہ ہند کی تاجپوشی کا ایک نہایت غیر معمولی موقع پیش نہیں آیا اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔اور درحقیقت بظاہر دنیاوی نقطۂ خیال سے یہ بات ہے بھی درست کیونکہ جب رعایا کے دل میں یہ بیٹھ جائے کہ ہم جس طرح چاہیں کرا سکتے ہیں یا ان کو یہ خیال ہو جائے کہ ہمارا حاکم تو بالکل غیر مستقل مزاج آدمی ہے اسے جس طرح چاہیں پھیر دیں تو وہ بہت دلیر اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ست ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے رجالِ سیاست نے اس بات کو بہت پسند کیا ہے کہ حاکم اپنے فیصلہ کو بہت جلد واپس نہ لے بلکہ حتی الامکان اس پر قائم رہے۔ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس پاک فطرت کو لے کر پیدا ہوئے اور جن کمالات کو آپ نے حاصل کیا تھا وہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیشہ خیر اختیار کریں۔ایک دنیاوی بادشاہ یا حاکم اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ میں اپنے ایام حکومت میں حکومت کے رعب کو قائم رکھتا رہا ہوں اور ایک مضبوط ارادہ کے ساتھ نظام حکومت چلاتا رہا ہوں مگر میرے اس پیارے کا یہ فخر نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کہ دیا اس پر پابند رہا ہوں بلکہ اس کا فخر یہ تھا کہ میں نے جب عمل کیا خیر پر کیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ میں فلاں رنگ میں کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں میں نے اس کے پہنچانے میں کو تا ہی نہیں کی۔پس اگر روحانیت کی دنیا میں کوئی شخص قابل اتباع ہوسکتا ہے تو وہ الله آنحضرت عہ ہی ہو سکتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنَ الْأَشْعَرِيْنَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَأَبِي أَنْ يَحْمِلَنَا فَاسْتَحْمَلْنَاهُ