سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 229
سيرة النبي علي 229 رضا کا بھوکا تھا ؟ دنیا اس کی نظر میں ایک مُردار سے بھی کم حیثیت رکھتی تھی۔اطمینان قلب آرام و آسائش کے اوقات میں اپنے ہوش وحواس پر قابو رکھنا جلد 1 کوئی بڑی بات نہیں۔انسان کا امتحان اُس وقت ہوتا ہے جب اس پر کوئی مشکل پیش آئے اور پھر اس میں وہ اپنے حواس کو قائم رکھے اور بدحواس نہ ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی عمر میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور بہادری اور جرات میں آپ نے اپنے آپ کو بے نظیر ثابت کر دکھایا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے مختلف واقعات سے ثابت کر چکے ہیں ان مصائب و آسائش کے مختلف دوروں نے آپ کی عظمت اور جلال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہر حالت میں اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ظاہر کی ہے۔خواہ محسر کا زمانہ ہو یا ئیسر کا آپ بے عیب ثابت ہوئے ہیں اور آپ کی شان ارفع سے ارفع تر ثابت ہوئی ہے۔نہ تو مصائب کے ایام میں آپ سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوئی جس سے آپ پر عیب گیری کا موقع ملے نہ خوشی کے دنوں میں آپ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوا جس سے آپ پر اعتراض کرنے کی گنجائش پیدا ہو۔ہر رنگ اور ہر شکل میں آپ دنیا کے لیے ایک قابلِ قدرنمونہ ثابت ہوئے ہیں۔جرأت و بہادری کی نسبت تو میں لکھ چکا ہوں اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حواس پر کیسا قابو تھا اور کس طرح خطرناک سے خطرناک مصائب میں آپ استقلال اور ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنے کے عادی تھے اور آپ سے کبھی کوئی ایسی حرکت نہ ہوتی تھی جس سے کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر ہو اور یہ بھی کہ کیونکر ہر ایک مصیبت میں آپ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ ہی دکھائی دیتا تھا۔یہ تو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے ساتھ کوئی پہرہ یا گارڈ نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی اکیلے اپنے کام میں مشغول رہتے تھے ایسے اوقات میں دشمن کو جس قدر دکھ پہنچانے کے مواقع مل سکتے ہیں وہ ایک واقف کار انسان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں