سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 211
سيرة النبي علي 211 جلد 1 تشریف لانے کے وقت سے جو آپ کے ساتھ رہے تو وفات تک الگ نہ ہوئے اور آپ کی زندگی بھر خدمت میں مشغول رہے۔پس آپ کی روایت ایک واقف کار کی روایت ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایسے امور میں بہت سے دوسروں کی نسبت زیادہ پختہ اور مضبوط رائے دے سکتا تھا اس لیے نہایت وزن دار اور واقعات کے مطابق ہے۔اب اس زندگی کو مجموعی حیثیت سے دیکھو کہ ایک انسان بادشاہ ہے اسے سب کچھ نصیب ہے۔اگر چاہے تو اچھے سے اچھے کھانے کھا سکتا ہے اور پُر تکلف دستر خوانوں پر بیٹھ سکتا ہے لیکن باوجود مقدرت کے وہ اسی بات پر کفایت کرتا ہے کہ کبھی تو کھجور اور پانی سے اپنی بھوک کو تو ڑ لیتا ہے اور کبھی جو کی روٹی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اور کبھی گیہوں کی روٹی تو کھاتا ہے مگر وہ بے چھنے آٹے کی ہوتی ہے۔پھر نہ اس کے سامنے کوئی بڑا دستر خوان بچھایا جاتا ہے نہ سینیوں میں کھانا چنا جاتا ہے بلکہ ایک معمولی دستر خوان پر سادہ کھانا رکھ کر کھا لیتا ہے اور باوجود ایسی سادہ زندگی بسر کرنے کے دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا کھانے والوں اور اپنے جسم کی پرورش کرنے والوں سے ہزار گنا بڑھ کر کام کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ بھی نمونہ دکھا دیا ہے کہ ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ غذا ئیں بھی آپ استعمال فرما لیتے تھے مگر دوسری طرف اس سادہ زندگی سے ہمارے اُن امراء کے لیے ایک نمونہ بھی قائم کر دیا ہے جن کی زندگی کا انتہائی مقصد اعلیٰ خوراک اور پوشاک ہوتی ہے۔سب کاموں میں صحابہؓ کے مددگار رہتے آپ مسجد کی اینٹیں ڈھوتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی خوبی ہے جسے انسان خاص طور پر بیان کر سکے۔کوئی شعبہ زندگی بھی تو نہیں جس میں آپ دوسروں کے لیے نظیر نہ