سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 209
سيرة النبي علي 209 جلد 1 اگر آپ ایک طرف سادہ زندگی میں کمال رکھتے تھے تو دوسری طرف طیب اشیاء کے استعمال سے بھی قطعاً اجتناب نہ فرماتے تھے۔اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وفات تک آپ کا یہی حال رہا کبھی ایسی بات بھی ہو جاتی تھی کہ دو ماہ تک آگ نہ جلی مگر اب میں ایک اور حدیث درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ چند مہینوں یا سالوں کا نہیں بلکہ آپ کی وفات تک یہی ہوتا رہا اور صرف چند ماہ تک آپ نے اس مشقت کو برداشت نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ اس سادگی کی زندگی کے عادی رہے اور عسر و یسر ایک سا حال رہا۔اگر ابتدائے عہد میں کہ آپ دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے اور آپ کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا تھا آپ اس سادگی سے بسر کرتے تھے تو اُس وقت بھی جبکہ ہزاروں روپیہ آپ کے پاس آتا اور آپ ایک ملک کے بادشاہ ہو گئے تھے آپ اسی سادگی سے بسر اوقات کرتے اور کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ فرماتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعُ مِنَ الْخُبُزِ 83 یعنی حضرت ابو ہریرہ ایک جماعت پر گزرے اور اس کے سامنے ایک بھنی ہوئی بکری پڑی تھی پس انہوں نے آپ کو بھی بلایا مگر آپ نے کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے گزر گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر روٹی نہیں کھائی اس لیے میں بھی ایسی چیزیں نہیں کھا تا ) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک دو دن نہیں بلکہ وفات تک آنحضرت ﷺ نے ایسی ہی سادہ زندگی بسر کی۔اس بات کی تصدیق حضرت عائشہ بھی فرماتی ہیں۔آپ سے روایت ہے کہ مَا شَبعَ الُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِ