سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 208
سيرة النبي علي عروسة 208 جلد 1 حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے عروہ سے فرمایا کہ اے میرے بھانجے ! ہم لوگ تو دیکھا کرتے تھے ہلال کے بعد ہلال حتی کہ تین تین ہلال دیکھ لیتے یعنی دو ماہ گزر جاتے مگر آنحضرت علیہ کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالہ! پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ اَسْوَدَانِ یعنی کھجور اور پانی کھا کر گزارہ کیا کرتے تھے۔ہاں اتنی بات تھی کہ رسول اللہ کے اردگر دانصار ہمسایہ تھے اور ان کے پاس دودھ والی بکریاں تھیں وہ آپ کو ان کا دودھ ہدیہ کے طور پر دیا کرتے تھے اور آپ وہ دودھ ہمیں پلا دیا کرتے تھے۔اللہ اللہ! کیسی سادہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور اور پانی یا دودھ پر گزارہ ہوتا ہے۔اس طریق عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرمانا چاہیے کیونکہ آج کل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتار ہیں۔اگر پوری طرح تحقیقات کی جائے تو مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے اور وہ مقروض رہتے ہیں۔وہ اس نبی کی امت ہیں جو مقتدر ہو کر پھر سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔پھر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور وہ زبان کے چسکے کو پورا کرنے کے لیے قرض لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہیں۔اگر وہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلاتے اور اسراف سے مجتنب رہتے تو آج اس بدتر حال کو نہ پہنچتے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت علی اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی نا پسند فرماتے تھے۔اور اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا آپ کے سامنے پیش کی جاتی تھی تو اسے بھی استعمال فرماتے تھے اور یہ نہیں کہ نفس کشی کے خیال سے اعلیٰ غذاؤں سے انکار کر دیں۔اور یہی کمال ہے جو آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپ کل دنیا کے لیے آئے تھے نہ کہ صرف کسی خاص قوم یا خاص گروہ کے لیے۔اس لیے آپ کا ہر قسم کی خوبی میں کامل ہونا ضروری تھا اور صلى الله